Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ الأسود بن قيس عن جندب · حديث 1719

1718 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا موسى بن سفيان الجنديسابوري حدثنا عبد الله بن الجهم عن عمرو بن أبي قيس عن الأسود عن جندب Y قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( من كان ذبح أضحيته قبل الصلاة فليذبح مكانها أخرى ومن لم يذبح فليذبح باسم الله )

حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جس نے نماز سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کیا ،وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ،وہ اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے ۔

صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جُنْدُبٍ ← الْأَسْوَدِ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ ← مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1719

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ الأسود بن قيس عن جندب · حديث 1720

1719 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل ثنا عمر بن زياد الألهاني عن الأسود بن قيس عن جندب Y قال أصابت إصبع النبي صلى الله عليه و سلم فدميت فقال : ( ( هل هي إلا إصبع دميت ... وفي سبيل الله ما لقيت ) ) فحمل فوضع على سرير مرمول بخوص أو شريط ووضع تحت رأسه مرفقه من أدم حشوها ليف فأثر الشريط في جنبه فجاء عمر بن الخطاب فبكى فقال : ( ما يبكيك ؟ ) فقال : يا رسول الله كسرى و قيصر يجلسون على سرير الذهب ويلبسون الديباج والإستبرق قال : ( أما ترضون أن لهم الدنيا ولكم الآخرة )

حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلی مبارک کو درخت کی ٹہنی لگی تو وہ زخمی ہو گئی ،آ پ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :تو ہی زخمی ہو ئی ہے تو کس چیز سے ملی ہے اللہ کی راہ میں ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اٹھایا گیا اور ایک چارپائی پر رکھا گیا ،جو کھجور کے پتوں کی سخت ترین تھی ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر انور کے نیچے کھجور کی چھال کا بھرا ہوا تکیہ رکھا گیا ،کھجور کے پتوں کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر پر تھے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور رونے لگے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم کیوں روتے ہو؟عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسری ٰ و قیصر سونے کے تخت پر بیٹھتے ہیں ،ریشم اور استبراق پہنتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم خوش نہیں ہو ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو جائے اور تمھارے لیے آخرت !

جُنْدُبٍ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُمَرُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1720

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ الأسود بن قيس عن جندب · حديث 1721

1720 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو بلال الأشعري ثنا قيس بن الربيع عن الأسود عن جندب Y قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يعجبه التهجد من الليل

حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تہجد پڑھنا پسند فرماتے تھے۔

كان النبي صلى الله عليه و سلم يعجبه التهجد من الليل ← جُنْدُبٍ ← الْأَسْوَدِ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1721

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ أبو سهل الفزاري عن جندب · حديث 1722

1721 - حدثنا أحمد بن موسى بن يزيد السامي البصري ثنا أحمد بن عبد الله الغذائي ثنا النضر بن منصور عن سهل الفزاري عن أبيه عن جندب Y قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا لقي أصحابه لم يصافحهم حتى يسلم عليهم

حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے صحابہ سے ملتے تو جب تک سلام نہ کرلیتے ،ان سے مصافحہ نہیں کرتے تھے۔

جُنْدُبٍ ← أَبِيهِ ← سَهْلٍ الْفَزَارِيِّ ← النَّضْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أحمد بن عبد الله الغذائي ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ يَزِيدَ السَّامِيُّ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1722

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ أبو سهل الفزاري عن جندب · حديث 1723

1722 - حدثنا أحمد بن موسى بن يزيد السامي ثنا أحمد بن عبيد الله الغداني ثنا النضر بن منصور عن سهل الفزاري عن أبيه عن جندب Y قال : سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم سفرا فأتاه قوم فقالوا : يا رسول الله سهونا عن الصلاة فلم نصل حتى طلعت الشمس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( توضأوا وصلوا ) ثم قال : ( إن هذا ليس بالسهو إن هذا من الشيطان إذا أخذ أحدكم مضجعه من الليل فليقل بسم الله أعوذ بالله من الشيطان الرجيم )

حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے ،انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم نماز پڑھنا بھول گئے ہیں۔ہم نماز سورج کے طلوع کے بعد پڑھیں ؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :وضو کرو اور نماز پڑھو پھر فرمایا :یہ بھول نہیں ہے بلکہ شیطان کی طرف سے ہے ،جب تم میں سے کوئی رات کو اپنے بستر پر آئے تو پڑھے :بسم اللہ اعوذ با للہ من الشیطان الرجیم !

جُنْدُبٍ ← أَبِيهِ ← سَهْلٍ الْفَزَارِيِّ ← النَّضْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ يَزِيدَ السَّامِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1723

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ شهر بن حوشب عن جندب · حديث 1724

1723 - حدثنا محمد بن الفضل السقطي حدثنا سعيد بن سليمان ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي عن عبد الحميد بن بهرام ثنا شهر بن حوشب قال حدثني جندب بن سفيان رجل من بجيلة قال Y إني لعند رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جاءه بشير من سريته فأخبره بالنصر الذي نصر الله سريته وبفتح الله الذي فتح لهم وقال : يا رسول الله بينما نحن نطلب القوم وقد هزمهم الله تعالى إذ لحقت رجلا بالسيف فلما حس أن السيف مواقعه وهو يسعى ويقول : إني مسلم إني مسلم قال : ( فقتلته ؟ ) فقال : يا رسول الله إنما تعوذ قال : فهلا شققت عن قلبه فنظرت أصادق هو أم كاذب ؟ ) قال : لو شققت عن قلبه ما كان علمي هل قلبه إلا بضعة من لحم ؟ قال : ( لا ما في قلبه تعلم ولا لسانه صدقت ) قال : يا رسول الله استغفر لي قال : ( لا أستغفر لك ) قال : فمات ذلك الرجل فدفنوه فأصبح على وجه الأرض ثم دفنوه فأصبح على وجه الأرض ثلاث مرات فلما رأوا ذلك استحيوا وخزوا مما لقي فاحتملوه فألقوه في شعب من تلك الشعاب في شعب من الشعاب

حضرت جندب بن سفیان قبیلہ بجیلہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا ،جس وقت سریہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شخص خوشخبر ی لے کر آیا ،اس نے اس کی مدد کے متعلق بتایا جو اللہ نے ان کی سریہ میں مدد کی اور اللہ کی فتح جو ان کو فتح دی ،اس نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگوں کو تلاش کررہے تھے ،اللہ عزوجل نے ان کو بھگا دیا ،جب ایک آدمی کی تلوار مجھے لگی ،میں نے تلوار لگنے کو محسوس کیا ،وہ دوڑ پڑا اور کہنے لگا میں مسلمان ہوں ! میں مسلمان ہوں ! میں مسلمان ہوں میں نے اس کو قتل کردیا ؛اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے بچنے کے لیے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تو نے اس کا چل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ کیا وہ سچا ہے یا جھوٹا ؟اس نے عرض کی اگر میں اس کا دل چیرتا تو مجھے علم نہ ہوتا اس کے دل میں کیا ہے وہ تو گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو دل کے اندر کی بات کو نہیں جانتا ہے تو اس کی زبان کی تصدیق کر۔اس آدمی نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !میرے لیے بخشش مانگیں !آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تیرے لیے بخشش نہیں مانگو ں گا وہ آدمی مر گیا اس کو صبح کےوقت دفن کیا ،وہ زمین کے اوپر پڑا ہوا تھا ،پھر دفن کیا وہ صبح کے وقت زمین کے اوپر تھا ،ایسا تین مرتبہ کیا ،جب انہوں نے ایسا دیکھا تو انہوں نے شرم کی اور ندامت کی ،انہوں نے اس کو اٹھایا اور گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں پھینک آئے۔

جُنْدُبُ بْنُ سُفْيَانَ رَجُلٍ مِنْ بَجِيلَةَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1724

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ شهر بن حوشب عن جندب · حديث 1725

1724 - حدثنا محمد بن الفضل السقطي ثنا سعيد بن سليمان ( ح ) وحدثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد قالا ثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب حدثني جندب بن سفيان Y قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( سيكون بعدي فتن كقطع الليل المظلم يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي كافرا ويصبح مؤمنا ) فقال رجل من المسلمين : فكيف نصنع عند ذلك يا رسول الله ؟ قال : ( أدخلوا بيوتكم واخملوا ذكركم ) فقال رجل أرأيت إن دخل على أحدنا بيته ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ليمسك بيده وليكن عبد الله المقتول ولا يكن عبد الله القاتل فإن الرجل يكون في فئة الإسلام فيأكل مال أخيه ويسفك دمه ويعصي ربه ويكفر بخالقه وتجب له النار )

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :میر ے بعد عنقریب فتنے ہوں گے ،رات کے اندھیرے کی طرح ٹکڑے ہوں گے ،ان فتنوں کے دور میں آدمی صبح کے وقت مومن اور رات کو کافر ہو گا ،رات کو کافر اور صبح کے وقت مومن ہو گا۔مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت ہم کیا کریں ؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے گھروں میں داخل ہو جانا اور ذکر کرنا ۔ایک آدمی نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ بتائیں اگر کوئی شخص ہمارے گھر آجائے ؟تو حضؤر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےفرمایا :اس کو اپنے ہاتھ سے روکنا تا کہ اللہ کا بندہ مقتول ہو ،اللہ کا بندہ اپنے بھائی کا مال کھائے گا ،اس کو قتل کرے گا،اپنے رب کی نافرمانی کرےگا ،اپنے خالق کا انکار کرے گا اور اس کے لیے جہنم واجب ہو جائے گی۔

جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1725

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 184 - جندب بن كعب الأزدي وقد اختلف في صحبته · حديث 1726

1725 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي حدثنا إسماعيل بن إبراهيم أبو معمر القطيعي ثنا هشيم أنا خالد الحذاء عن أبي عثمان النهدي Y أن ساحرا كان يلعب عند الوليد بن عقبة فكان يأخذ السيف ويذبح نفسه ويعمل كذا ولا يضره فقام جندب إلى السيف فأخذه فضرب عنقه ثم قرأ ( { أفتأتون السحر وأنتم تبصرون } )

حضرت ابو عثمان النہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جادوگر ولید بن عقبہ کے پاس کھیلتا تھا ،وہ تلوار پکڑتا ،اپنے آپ کو ذبح کرتا اور اس طرح کا عمل کرتا تو اس کو کوئی نقصان نہ ہوتا ،حضرت جندب رضی اللہ عنہ تلوار لے کر کھڑے ہوئے ،اس کو پکڑ ا اور اس کی گردن اڑا دی ،پھر یہ آیت پڑھی ،"کیا جادوگر کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر"۔

خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← هُشَيْمٌ ← اسماعيل بن ابراهيم أبو معمر القطيعي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1726

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 185 - جندب بن مكيث الجهني · حديث 1727

1726 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو معمر المقعد ثنا عبد الوارث بن سعيد عن محمد بن إسحاق وحدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن أسحاق حدثني يعقوب بن عتبة عن مسلم بن عبد الله الجهني عن جندب بن عبد الله الجهني ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا جعفر بن مهران السباك ثنا عبد الأعلى السامي حدثنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن مسلم بن عبد الله عن جندب بن عبد الله الجهني قال Y بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم غالب بن عبد الله الكلبي كلب عوف بن ليث في سرية كنت فيهم فأمره أن يشن الغارة على بني الملوح بالكديد قال : فخرجنا حتى إذا كنا بقديد لقينا الحارث بن برصاء الليثي فأخذناه قال : إنما جئت لأسلم إنما خرجت أريد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قلنا إن تكن مسلما فلن يضرك رباط ليلة وإن تكن غير ذلك فسنوثق منك فأوثقناه رباطا ثم خلفنا عليه رويجلا لنا أسود كان معنا فقلنا له : إن نازعك فاحتز رأسه ثم أتينا الكديد مع مغرب الشمس وكنا في ناحية من الوادي وبعثني أصحابي ربيئة لهم إلى تل مشرف على الحاضر قال : فأسندت فيه حتى إذا كنت على ظهره ونظرت إلى القوم انبطحت فوالله إني لعليه أنظر إذ خرج رجل من خبائه فقال : لامرأته والله إني لأرى سوادا ما رأيته في أول النهار فانظري في أوعيتك لا يكون الكلاب اجترت بعضها فنظرت قالت : فوالله ما أفقد من أوعيتي شيئا قال : أعطني قوسي فأعطته قوسا وسهمين معها قال : فرمى بسهم واحد فوالله ما أخطأ جنبي قال قانتزعته وثبت قال ثم رمى بالآخر فوضعه في منكبي فانتزعته وثبت فقال لامرأته : لو كانت زائلة لقد تحرك بعد لقد خالطه سهماي فإذا أنت أصبحت فابتغيهما فخذيهما ولا تضيعهما الكلاب قال : ثم دخل حتى إذا راحت رائحة الناس من إبلهم وغنمهم قد احتلبوا وغبطوا واطمأنوا شننا عليهم الغارة فقتلنا واستقنا الغنم ثم وجهناها وخرج صريخ القوم في قومهم فجاءهم الدهم فجاؤوا في طلبنا حتى مررنا بابن البرصاء فانطلقنا به معنا وبصاحبنا الذي خلفناه قال : فأدركنا القوم حتى نظرنا إليهم ما بيننا وبينهم إلا الوادي على ناحيته موجهين ومن ناحية الأخرى في طلبنا إذ جاء الله به من حيث شاء ما رأينا قبل ذلك مطرا ما يقدر أحدا على أن يجيزه لقد رأيتهم وقوفا ينظرون إلينا ونحن نحدوها ما يقدر رجل منهم أن يصل ألينا حتى إذا عرجناها ما أنسى قول راجز من المسلمين وهو يحدوها في أعقابها : ( أبى أبو القاسم أن تعر بي ... في خطل نباته مغلوب ) ( صفر أعاليه كلون المذهب )

حضرت جندب بن عبداللہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ الکلبی کو (بنی )کلب عوف بن لیث (کی طرف )بھیجا ،ایک سریہ میں ،میں بھی ان میں تھا ،آپ نے حکم دیا :بنی ملوح پر حملہ کرنے کا جو مقام کدید میں رہتے تھے ۔حضرت جندب فرماتے ہیں کہ ہم نکلے ،جب مقام قدید پر پہنچے تو ہمیں حارث بن برصاء اللیثی ملے ،ہم نے اس کو پکڑا اس نےکہا :میں اسلام لانے کے لیے آیا ہوں ۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ملنا چاہتا ہوں ،ہم نے اس کو کہا :اگر تو مسلمان (ہونےکے لیے آرہاہے )تو ایک (ہماری حفاظت میں رہے )تو تیرے لیے کوئی نقصان نہیں ہو گا ،اگر (تو مسلمان ہونے کے لیے نہیں آرہا ہے )تو ہم تجھے قید کرلیں گے ،اس کے بعد ہم نے اس کو باندھ لیا ،پھر ہم نے اس کا سامان باندھ لیا ،ہمارے ساتھ ایک سیاہ فام آدمی تھا ،ہم نے اس کو کہا :اگر یہ تیرے ساتھ جھگڑے تو اس کا سر کاٹ دینا ،پھر ہم سورج غروب ہونے کے وقت مقام کدید پر آئے ،ہم وادی کے کنارے پر تھے اور میرے ساتھی نے مجھے ایک اونچی جگہ بھیجا ان کے دیکھنے کے لیے کہ آنے والے کی اطلاع کروں ۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :جب میں اس پر چڑھا ،جب میں اس جگہ پر تھا تو میں نے لوگوں کی طرف دیکھا ،اللہ کی قسم !میں اونچی جگہ پر تھا کہ میں دیکھوں ،اچانک ایک آدمی اپنے خیمہ سے نکلا ،اس نے اپنی بیوی سے کہا :اللہ کی قسم ! میں نے سیاہی دیکھی ہے (مراد سایہ )جو میں نے دن کے شروع میں نہیں دیکھا ہے ،تو اپنے برتنوں کو دیکھ کہیں کتوں نے تیرے کچھ برتن (نکال کر)باہر تو نہیں پھینکے ہیں !میں نے دیکھا کہ اس کی بیوی نے کہا :اللہ کی قسم ! میں اپنے برتن میں سے کوئی شی کم نہیں دیکھ رہی ہوں اس نے کہا :میری کمان دے ! اس کی بیوی نے اس کو کمان دی اور ساتھ دو تیر بھی دیئے ۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اس نے تیر مارا ،اللہ کی قسم ! وہ میرے پہلو پر لگا ،میں نے اس کو نکال دیا اور اس جگہ رہا (آگے پیچھے نہیں ہوا )پھر اس نے دوسرا تیر مارا ،وہ میرے کندھے پر لگا ،میں نے اس کو بھی نکالا اور اسی جگہ رہا (آگے پیچھے نہیں ہوا )اس نے اپنی بیوی سے کہا :اگر کوئی جان والی (شی ہوتی )تو اس کے بعد حرکت کرتی (تیر لگنے کے بعد )جب صبح ہوئی تو تو نے میرے دونوں تیر ے تلاش کرکے لانے ہیں کیونکہ میرے دونوں تیر اس جگہ لگے ہوئے ہوں گے ،ایسا نہ ہوں کہ کتے اس کے ذریعے نقصان کریں ۔پھر وہ داخل ہوا ،جب لوگ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے دودھ دوھ کر اور باندھ کر راحت پاگئے اور مطمئن ہو گئے تو ان پر ہم نے حملہ کیا اور ان کو قتل کیا اور ان کی بکریاں ہانک لیں،پھر ہم واپس آئے ،ان کے لوگ چیخنے لگے ،آوازیں دینے لگے ،وہ ہماری تلاش میں نکلے ،جب ہم ابن برصاء کے پاس سے گزرے تو ہم نے اس کو بھی اور جو ہم اپنے پیچھے اپنے ساتھی چھوڑ آئے تھے ،اس کو ساتھ لے کر چلے ۔ان لوگوں نے ہم کو پالیا ،ہمارے اور ان کے درمیان ایک وادی کا فاصلہ رہ گیا تھا ،اچانک اللہ عزوجل نے ایسی بارش نازل فرمائی کہ ہم نے کبھی ایسی بارش نہیں دیکھی تھی ،اس سے نجات پانے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا تھا ،میں نے ان کو کھڑا دیکھا ،وہ ہم کو دیکھ رہے تھے ،ہم ان کے سامنے تھے ،ان میں کوئی آدمی ہم تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا یہاں تک کہ جب ہم نے پالیا جو بھول گئے تھے ،مسلمانوں میں سے کسی کے رجز کو :"وہ اس کا پیچھا کر رہے تھے ابو القاسم نے انکا ر کیا ،کوئی خالی گزرے خط میں ،اس جگہ گھاس اگی ہو ئی تھی جس طرح سونے کارنگ ہوتا ہے "۔

جندب بن عبد الله الجهني ← مسلم بن عبد الله، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى السَّامِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← جندب بن عبد الله الجهني ← مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1727

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 186 - جندب بن ناجية · حديث 1728

1727 - حدثنا عبد الله بن محمد بن شعيب الرجاني ثنا محمد بن معمر البحراني ثنا عبيد الله بن موسى ثنا موسى بن عبيدة عن عبد الله شيخ من أسلم عن جندب بن ناجية أو ناجية بن جندب Y قال : لما كنا بالغميم لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم خبر من قريش أنها بعثت خالد بن الوليد في جريدة خيل يتلقى رسول الله صلى الله عليه و سلم فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يلقاه وكان بهم رحيما فقال : ( من رجل يعدل لنا عن الطريق ؟ ) فقلت : أنا : بأبي أنت فأخذهم في طريق قد كان بها جربا فدافد وعقاب فاستوت بنا الأرض حتى أنزله على الحديبية وهي نزح فأكفأ فيها سهما أو سهمه من كنانته ثم بصق فيها ثم دعا فغارت عيونها حتى أني لأقول أو نقول لو شئنا لاغترفنا بأيدينا

حضرت جندب بن ناجیہ بن جندب فرماتے ہیں کہ ہم مقام غمیم میں تھے ،جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قریش کی خبر پہنچی کہ انہوں نے خالد بن ولید کو گھوڑ ے کے لشکر میں بھیجا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے کے لیے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ملنے کو نا پسند کیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت شفقت کرنے والے تھے،آپ نے فرمایا :کون آدمی ہم کو راستے دکھائے گا؟میں نے عرض کی :میں ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم راستہ پر چل دیے ،وہاں ایک تھیلہ اور عقاب تھا ،ہمارے لیے زمین کو برابر کیا ،ابھرے ہوئے حصہ پر اترا ،وہاں سے پانی کھینچا ایک حصہ کنانہ سے ،پھر آپ نے لعاب دہن اس میں ڈالا اور دعا کی تو اس سے چشمے نکلے یہاں تک کہ میں نے کہا :اگر ہم چاہتے تو ہم اپنے ہاتھوں سے چلو بھر لیتے ۔

جُنْدُبِ بْنِ نَاجِيَةَ أَوْ نَاجِيَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← عبد الله شيخ من أسلم ← موسى بن عبيدة ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ← عبد الله بن محمد بن شعيب الرجاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1728

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 187 - جندب بن حممة الدوسي قتل يوم أجنادين · حديث 1729

1728 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من استشهد من المسلمين يوم أجنادين جندب بن حممة الدوسي حليف بني أمية بن عبد شمس

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے جو اجنادین کے دن شہید کیے گئے ،ان کے ناموں میں سے ایک نام جندب بن حممتہ الدوسی ،بنی امیہ بن عبدشمس کے حلیف کا بھی ہے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1729

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ 187 - جندب بن حممة الدوسي قتل يوم أجنادين · حديث 1730

1729 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد بن إسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من استشهد يوم أجندين جندب بن عمرو بن حممة الدوسي حليف بني أمية بن عبد شمس

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے جو اجنادین کے دن شہید کیے گئے ،ان کے ناموں میں سے ایک نام جندب بن حممتہ الدوسی ،بنی امیہ بن عبدشمس کے حلیف کا بھی ہے ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1730

chevron_left Previous
1…242526…88
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter