المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ ومن غرائب مسند أبي ذر رحمه الله باب · حديث 1644
1643 - حدثنا علي بن المبارك ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا إسماعيل ابن عبد الله بن خالد بن سعيد بن أبي مريم عن أبيه عن جده عن نعيم بن عبد الله مولى عمر بن الخطاب أنه سمع أبا زينب مولى حازم الغفاري يقول سمعت أبا ذر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y ( يا أبا ذر تقول كثرة المال الغنى ؟ ) قلت : نعم قال : ( تقول قلة المال الفقر ؟ ) قلت : نعم قال ذلك ثلاثا ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( الغنى في القلب والفقر في القلب من كان الغنى في قلبه لا يضره ما لقي من الدنيا ومن كان الفقر في قلبه فلا يغنيه ما أكثر له من الدنيا وإنما يضر نفسه شحها )
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :اے ابو ذر ! تو کہتا ہے کہ کثرت مال کا نام مال داری ہے۔میں نے عرض کی :جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو کہتا ہے کہ مال کا کم ہو نا محتاجی ہے ؟میں نے عرض کی :جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا ،پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :مال داری دل میں ہے اور محتاجی بھی دل میں ہے ،جس کےدل میں مالداری ہو اس کےلیے کوئی نقصان نہیں ہے ،اس کو دنیا سے جو ملے ،جس کے دل میں محتاجی ہو دنیا میں کثرت مال اس کو مال دار نہیں بنا سکتا ہے،بس کنجوسی اس کے لیے جان لیوا ہے۔
أَبَا ذَرٍّ ← أَبَا زَيْنَبَ مَوْلَى حَازِمٍ الْغِفَارِيِّ ← نعيم بن عبد الله مولى عمر بن الخطاب أنه ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إسماعيل ابن عبد الله بن خالد بن سعيد بن أبي مريم ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1644
