المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ 172 - ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه · حديث 1415
1414 - حدثنا أحمد بن خليد الحلبي ثنا أبو توبة الربيع بن نافع ثنا معاوية بن سلام عن زيد بن سلام Y أنه سمع أبا سلام قال حدثني أبو أسماء أن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كنت قاعدا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء حبر من أحبار اليهود فقال : السلام عليك يا محمد فدفعته دفعة كاد أن يصرع منها فقال : لم تدفعني ؟ فقلت : أولا تقول يا رسول الله فقال اليهودي : إنما ندعوه باسمه الذي سماه به أهله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن اسمي محمد الذي سماني به أهلي ) فقال اليهودي : جئت أسألك فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ينفعك شيء إن حدثتك ؟ ) قال : أسمع بأذني فنكت بعود معه فقال : ( سل ) فقال اليهودي : أين الناس يوم تبدل الأرض غير الأرض والسماوات ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هم في الظلمة دون الجسر ) قال : فمن أول الناس إجازة ؟ قال : ( فقراء المهاجرين ) فقال اليهودي : فما تحيتهم حين يدخلون الجنة ؟ قال : ( زيادة كبد الحوت ) قال : فما غذاؤهم على أثرها ؟ قال : ( ينحر لهم ثور الجنة الذي يأكل من أطرافها ) قال فما شرابهم عليه ؟ قال : ( من عين تسمى سلسبيلا ) قال صدقت وجئت أسألك عن شيء لا يعلمه أحد من أهل الأرض إلا نبي أو رجل أو رجلان قال : ( ينفعك إن حدثتك ؟ ) قال أسمع بأذني قال جئت أسألك عن الولد قال : ( ماء الرجل أبيض وماء المرأة أصفر فإذا اجتمعا فعلا مني الرجل مني المرأة ذكرا بإذن الله وإذا علا مني المرأة مني الرجل أنثى بإذن الله ) فقال اليهودي : لقد صدقت وإنك نبي ثم انصرف فذهب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لقد سألني هذا عن الذي يسألني عنه ومالي بشيء منه علم حتى أنبأني الله عز و جل )
حضرت ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھڑا تھا کہ آپ کے پاس یہود کے علماء کے گروہ میں سے ایک آیا' اس نے کہا: السلام علیک یا محمد ! میں نے ان کو دھکا دیا' قریب تھا کہ وہ گر جائے' اس نے کہا: تم نے مجھے دھکا دیا' میں نے کہا: کیا تم یا رسول اللہ نہیں کہہ سکتے ؟ یہودی نے کہا: ہم آپ کو اسی نام سے پکارتے ہیں جس نام سے آپ کو آپ کے خاندان کے لوگ پکارتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا نام محمد ہے جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے ۔ اس یہودی نے کہا: میں آپ کے پاس کچھ سوال پوچھنے کےلیے آیا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر میں نے تجھے جواب دئیے تو تجھے کوئی شے نفع دے گی؟ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے سنوں گا' آپ نےا پنی چھڑی مبارک سے میں کو کریدا جو آپ کےپاس تھی اور فرمایا: پوچھو! یہودی نے کہا: جس دن زمین آسمان بدل دئیے جائیں گے' اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پل کے نیچے اندھیرے میں ہوں گے' اس نے کہا: سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟ فرمایا: مہاجرین فقراء۔ اس نے کہا: جنتی جس وقت جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا کھانا کیا ہو گا؟ فرمایا : مچھلی کی کلیجی۔ اس نے کہا: اس کے بعد کیا دیا جائے گا؟ فرمایا: ان کے لیے جنت کا بیل ذبح کیا جائے گا جس کو وہ اس کے اطراف سے کھائیں گے۔ اس نے کہا: وہ کیا پئیں گے؟ فرمایا: سلسبیل نامی چشمہ سے پئیں گے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا' میں آپ سے ایسی شے کے متعلق کچھ سوال پوچھوں گا جس کو اس زمین میں صرف نبی ای ایک دو آدمی جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میں نے تجھے بیان کیا تو تجھے نفع ہو گا؟ اس نے کہا: میں کان لگا کے سنوں گا' کہنے لگا: میں آپ سے بچے کے متعلق پوچھنے آیا ہوں (کہ وہ ماں یا باپ کے کس طرح مشابہ ہوتا ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد رنگ کا ہوتا ہے'جب دونوں پانی جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکا اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو لڑکی پیدا ہوتی ہے ' اللہ کےحکم سے ۔ اس یہودی نے کہا: آپ نے سچ کیا' آپ بے شک نبی ہیں۔ پھر وہ مڑا اور چلا گیا' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے جو کچھ پوچھا ہے اس کا کچھ بھی علم میرے پاس نہیں تھا' یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے مجھے اس کا علم دیا۔
أبو أسماء أن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا سَلَّامٍ، ← زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1415
