المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 12 - و أسامة بن شريك الثعلبي من بني ثعلبة بن يربوع رحمه الله باب ما جاء في التداوي وترك الغيبة وحسن الخلق · حديث 468
465 - حدثنا عثمان بن عمر ثنا عبد الله بن رجاء ( ح ) وحدثنا أحمد بن عمرو القطراني ثنا عمرو بن مرزوق قالا : أنا زائدة عن زياد بن علاقة عن أسامة بن شريك قال Y كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم فجاءت الأعراب فسألوه : ما خير ما أعطي الناس ؟ قال : ( خلق حسن ) قالوا يا رسول الله أنتداوى ؟ قال : ( نعم عباد الله تداووا فإن الله عز و جل لم يضع في الأرض داء إلا وضع له شفاء غير داء واحد ) قالوا : وما هو ؟ قال : ( الهرم )
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا، دیہات کے لوگ آپ کے پاس پوچھنے کے لیے آئے ، انہوں نے پوچھا : لوگوں کو سب سے بہت شی کیا دی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اچھا اخلاق ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم دواء لیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں اللہ کے بندو ! دواء لو کیونکہ اللہ عزوجل نے کوئی بھی بیماری اتاری ہے تو اس کی شفاء بھی نازل کی ہے ، سوائے ایک بیماری کے ۔ صحابہ کرام نے عرض کی ؟ وہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : موت ۔
أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← زَائِدَۃَ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 468
