المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبيد الله بن علي بن أبي رافع عن جده · حديث 972
968 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني ثنا عبد العزيز بن محمد عن ابن الهاد عن عبادلل بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن أبي رافع قال Y بينما النبي صلى الله عليه و سلم يمشي في بقيع الفرقد وأنا أمشي خلفه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لا هديت لا هديت ) ثلاثا قال أبو رافع : قلت : يا رسول الله ما لي ؟ قال : ( ليس إياك أريد إنما أريد صاحب هذا القبر يسأل عني فيزعم أنه لا يعرفني ) فإذا هو قبر قد رش عليه الماء حين دفن صاحبه
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنت البقیع میں چل رہا تھا ، میں آپ کے پیچھے چل رہا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تجھے ہدایت نہیں دی گئی ، ہدایت نہیں دی گئی ۔ تین مرتبہ فرمایا۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یار سول اللہ ! مجھے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: میں نے تجھے مراد نہیں لیا ، میں نے یہ قبر والا مراد لیا ہے ، اس سے میرے متعلق پوچھا گیا تو اس کا خیال تھا کہ وہ مجھے پہنچانتا نہیں تھا ، اچانک میری نظر پڑی تو وہ ایک قبر ہے اس پر پانی ڈالا گیا ہے ، جس وقت اس کے مالک نے اس کو دفن کیا ۔
أبو رافع قلت ← رسول الله صلى الله عليه و سلم لا هديت لا هديت ثلاثا ← أمشي خلفه ← بينما النبي صلى الله عليه و سلم يمشي في بقيع الفرقد ← أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← عبادلل بن عبيد الله بن أبي رافع ← ابْنِ الْھَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 972
