Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 88 - الأرقم بن أبي الأرقم المخزومي بدري · حديث 912

908 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل و محمد بن عبد الله الحضرمي و محمد بن عبد الرحيم الدنباجي التستري قالوا ثنا محمد بن بكار ثنا عباد بن عباد المهلبي عن هشام بن زياد عن عمار بن سعد عن عثمان بن أرقم بن أبي الأرقم المخزومي عن أبيه الأرقم وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y ( إن الذي يتخطى رقاب الناس يوم الجمعة ويفرق بينهم كالجار قصبه في النار )

حضرت ارقم کا تعلق صحابہ کرام سے تھا ، فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک وہ آدمی جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہے اور ان کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے ، وہ جہنم میں اپنی کمر کھینچنے والے کی طرح ہو گا۔

أبيه الأرقم وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عثمان بن أرقم بن أبي الأرقم المخزومي ← عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، ← هشام بن زياد ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 912

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 88 - الأرقم بن أبي الأرقم المخزومي بدري · حديث 913

909 - حدثنا أحمد بن الجعد الوشاء ثنا أبو مصعب ثنا يحيى بن عمران عن جده عثمان بن الأرقم عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم بدر Y ( ضعوا ما كان معكم من الأنفال )

حضرت یحییٰ بن عمر ان اپنے دادا عثمان بن ارقم سے ، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا : رکھ دو جو تمہارے پاس مال غنیمت ہے ۔

أَبِيهِ ← جَدِّهِ، عُثْمَانَ بْنِ الْأَرْقَمِ، ← يَحْيَى بْنُ عِمْرَانَ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْجَعْدِ الْوَشَّاءُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 913

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 89 - أبو رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم إبراهيم ويقال اسمه أسلم باب من اسمه إبراهيم · حديث 914

910 - حدثنا محمد بن علي فستقة ثنا هارون بن عبدالله قال Y مات أسلم مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد قتل عثمان رضي الله عنه سنة خمس وثلاثين

حضرت ہارون بن عبداللہ فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرت اسلم ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد 35ہجری میں فوت ہوئے ۔

ھارون بن عبداللہ ← محمد بن علي فستقة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 914

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 89 - أبو رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم إبراهيم ويقال اسمه أسلم باب من اسمه إبراهيم · حديث 915

911 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا عبد الله بن محمد بن نمير حدثني رجل من أهل المدينة Y أن اسم أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم أسلم

حضرت عبداللہ بن محمد بن نمیر سے روایت ہے کہ اہل مدینہ میں سے ایک آدمی نے ہمیں حدیث بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام ابور افع نام اسلم تھا۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُمَيْرٍ ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 915

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ وما روى ابن عباس رضي الله عنه عن أبي رافع · حديث 916

912 - حدثنا موسى بن هارون ثنا إسحاق بن راهويه حدثنا وهب بن جرير حدثني أبي قال سمعت محمد بن إسحاق يقول حدثني حسين بن عبد الله عن عكرمة عن ابن عباس عن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y كنت غلاما للعباس بن عبد المطلب وكنت قد أسلمت وأسلمت أم الفضل وأسلم العباس وكان يكتم إسلامه مخافة قومه وكان أبو لهب قد تخلف عن بدر وبعث مكانه العاص بن هشام وكان عليه دين فقال له : اكفني هذا الغزو وأترك لك ما عليك ففعل فلما جاء الخبر وكبت الله أبا لهب وكنت رجلا ضعيفا أنحت هذه الاقداح في حجرة ومر بي فوالله إني لجالس في الحجرة أنحت أقداحي وعندي أم الفضل إذ الفاسق أبو لهب يجر رجليه أراه قال : حتى جلس عند طنب الحجرة فكان ظهره إلى ظهري فقال الناس : هذا أبو سفيان بن الحارث فقال أبو لهب : هلم إلي يا ابن أخي فجاء أبو سفيان حتى جلس عنده فجاء الناس فقاموا عليهما فقال : يا ابن أخي كيف كان أمر الناس ؟ قال : لا شيء والله ما هو إلا أن لقيناهم فمنحناهم أكتافنا يقتلوننا كيف شاؤوا ويأسروننا كيف شاؤوا وأيم الله لم لمت الناس قال : ولم ؟ فقال : رأيت رجالا بيضا على خيل بلق لا والله ما تليق شيئا ولا يقوم لها شيء قال : فرفعت طنب الحجرة فقلت : تلك والله الملائكة فرفع أبو لهب يده فلطم وجهي وثاورته فاحتملني فضرب بي الأرض حتى نزل علي فقامت أم الفضل فاحتجزت فأخذت عمودا من عمد الحجرة فضربته به ففلقت في رأسه شجة منكرة وقالت : أي عدو الله استضعفته أن رأيت سيده غائبا عنه فقام ذليلا فوالله ما عاش إلا سبع ليال حتى ضربه الله بالعدسة فقتلته فلقد تركه ابناه ليلتين أو ثلاثة ما يدفناه حتى أنتن فقال رجل من قريش لابنيه : ألا تستحيان ؟ إن أباكما قد أنتن في بيته فقالا : إنا نخشى هذه القرحة وكانت قريش يتقون العدسة كما يتقى الطاعون فقال رجل : انطلقا فأنا معكما قال : فوالله ما غسلوه إلا قذفا بالماء عليه من بعيد ثم احتملوه فقذفوه في أعلى مكة إلى جدار وقذفوا عليه الحجارة

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضر ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : میں حضرت عباس بن عبدالمطلب کا غلام تھا ، میں اور حضرت اُم الفضل ، حضرت عباس اسلام لا چکے تھے ، لیکن حضرت عباس اپنا ایمان اپنی قوم سے چھپاتے تھے ، ابو لہب بدر میں شریک نہیں ہوا تو اُس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا تھا ، عاص نے ابو لہب کا قرض دینا تھا ، ابو لہب نے کہا: اس غزوہ میں آپ میری نمائندگی کریں ، جو آپ کے ذمہ قرض ہے، میں اس کو چھوڑ دوں گا۔ عاص نے ایسے کیا، جب خبر آئی کہ اللہ نے ابو لہب کو زلیل کردیا ، میں ایک کمزور سا آدمی تھا ، ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر یہ پیالے بنایا کرتاتھا ، وہ میرے پاس سے گزرا۔ قسم بخدا! میں اسی کمرہ میں بیٹھ کر اپنے پیالے بنا رہا تھا ۔حضرت اُم فضل بھی میرے پاس تھیں جبکہ فاسق ابولہب اپنی ٹانگیں گھسٹیتا ہوا آگیا۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ حضرت ابورافع نے یہ بات بھی کی کہ حجرہ کی طنابوں کے پاس آکر بیٹھ گیا ، پس اس کی پیٹھ ، میری پیٹھ کی طرف تھی تو لوگوں نے کہا: وہ دیکھو ابو سفیان بن حارث آگئے تو ابو لہب نے کہا: اے میرے بھائی کے بیٹے ! ادھر آؤ۔ ابو سفیان بھی آکر اس کے پاس بیٹھ گیا، پس لوگ بھی آکر ان دونوں کے پاس (تماشائیوں کی طرح )کھڑے ہوگئے ۔ ابو لہب نے کہا: اے بھائی کے بیٹے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتاؤ! لوگوں کا معاملہ کیسے رہا؟ کہا: لاشی (بتانے کے قابل نہیں) قسم بخدا! ہوا یہ کہ ہماری ان سے مڈ بھیڑ ہوئی ، پس ہم نے اپنے کندھے ان کے سامنے کر دیئے ،انہوں نے جیسے چاہا ہمیں قتل کرتے رہے ، جیسے چاہا قیدی بناتے رہے ، قسم بخدا! میں اپنے لوگوں کو ملامت نہیں کرتا ۔ ابو لہب نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: میں نے سفید رنگ کے آدمی ، ابلق گھوڑوں پر سوار دیکھے ، قسم بخدا! وہ کسی شے سے ملتے جلتے نہیں تھے ، (وہ کوئی جدا گانہ مخلوق تھی ) نہ کسی شے کو ان کے لیے بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے ۔ راوی کا بیان ہے : میں نے حجر ے کی طنابیں اٹھا کر کہا: قسم بخدا! وہ فرشتے تھے ۔ یہ سن کر ابو لہب کو اتنا غصہ آیا کہ ہاتھ اٹھا کر مجھے تھپڑ رسید کیا، میرے دل میں اس سے بدلہ لینے کا جذبہ بیدار ہوا (کیونکہ میں مسلمان ہو چکا تھا ) میں اس سے لڑنے لگا، اس نے مجھے زمین سے اوپر اٹھا یا اور زمین پر دے مارایہاں تک کہ میرے اوپر چڑھ بیٹھا ۔ (یہ دیکھ کر) ام فضل کھڑی ہوئیں ، وہ رکاوٹ بنیں ۔ میں نے حجرہ کی چوب اٹھا کر اسے دے ماری اور اس کا سر پھوڑ دیا ، اسے بہت سارازخم ہو گیا ۔ حضرت ام فضل بولیں : اے اللہ کے دشمن ! تو نے اسے کمزور سمجھا، اس کے سر دار کو غائب پایا ؟ پس وہ اٹھا اس حال میں کہ وہ ذلیل و خوار تھا ۔ قسم بخدا! ابھی ساتھ راتیں گزری تھیں اللہ نے اسے جسم کے دانوں سے مار دیا ، اس کے دونوں بیٹوں نے اسے دو یا تین رات اسی حال میں پڑا رہنے دیا ، اسے دفن نہیں کیا۔ ایک قریشی آدمی نے اس کے بیٹوں کو شرم دلائی کہ تمہارا باپ گھر پڑا پھول گیا ہے ؟ ان دونوں نے کہا: ہم اس بیماری سے بڑا ڈرتے ہیں ، یہ ہے بھی حقیقت کہ قریش دانوں کی بیماری سے اس طرح ڈرتے تھے جس طرح طاعون سے ڈرا جاتا ہے ، پس ایک آدمی نے کہا: چلو! میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ حضرت ابو رافع فرماتے ہیں : قسم بخدا! انہوں نے اسے غسل تک نہ دیا ، بس دور سے کھڑے ہو کر اس پر پانی پھینک دیا ، انہوں نے اسے اٹھا کر مکہ کے اوپر والی طرف ایک دیوار کے پاس پھینک دیا اور بڑا سا پتھر اس پر پھینک دیا ( گویا اس طرح اس کی قبر بنائی )

بدر وبعث مكانه العاص بن هشام وكان عليه دين ← أَسْلَمَ الْعَبَّاسُ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ مَخَافَةً قَوْمِهِ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ قَدْ تَخَلَّفَ ← كُنْتُ قَدْ أَسْلَمْتُ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ، ← كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 916

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عطاء بن يسار عن أبي رافع · حديث 917

913 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن يوسف أنا مالك ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي عن مالك عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y استسلف رسول الله صلى الله عليه و سلم بكرا فجاءته إبل الصدقة قال أبو رافع : فأمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أقضي الرجل بكره فقمت فلم أجد في الإبل إلا جمالا خيارا رباعيا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أعطه إياه فإن خيار المسلمين أحسنهم قضاء )

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے جوان اونٹ لیا، آپ کے پاس زکٰوۃ کے اونٹ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کا جوان اونٹ واپس کردوں ۔ میں کھڑا ہوں ، میں نے اونٹوں میں خوبصورت اور بہتر چار سالہ پایا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو دے دو کیونکہ مسلمانوں میں بہتر وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو۔

أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 917

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عطاء بن يسار عن أبي رافع · حديث 918

914 - حدثنا المقدام بن داود ثنا أسد بن موسى ثنا مسلم بن خالد حدثني زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y استسلف النبي صلى الله عليه و سلم من رجل بكرا وقال : ( إذا جاءت الصدقة قضيناك ) فلما جاءت الصدقة قال لأبي رافع : ( اقض هذا بكره ) فنظر فيها فلم يجد إلا رباعيا فصاعدا فرجع إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال : ( أعطه فإن خير الناس أحسنهم قضاء )

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرت ابور افع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے جوان اونٹ لیا، آپ کے پاس زکٰوۃ کے اونٹ آئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کا جوان اونٹ واپس کردوں ۔ میں کھڑا ہوں ، میں نے اونٹوں میں خوبصورت اور بہتر چارسالہ پایا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو دے دو کیونکہ مسلمانوں میں بہتر ہو ہے جو قرض پورا پورا دینے میں اچھا ہو۔

استسلف النبي صلى الله عليه و سلم من رجل بكرا ← أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 918

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ سليمان بن يسار عن أبي رافع · حديث 919

915 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم و عارم ( ح ) وحدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ( ح ) وحدثنا يوسف القاضي و موسى بن هارون قالا ثنا أبو الربيع الزهراني ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا خلف بن هشام قالوا ثنا حماد بن زيد عن مطر الوراق حدثني ربيعة عن سليمان بن يسار عن أبي رافع Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تزوج ميمونة حلالا وبنى بها حلالا وكنت الرسول بينهما

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے احرام کھولنے کے بعد شادی کی اور رخصتی بھی اسی حالت میں ہوئی ، ان دونوں کے درمیان پیغام رساں ، میں تھا۔

أَبِي رَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← رَبِیعَۃَ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام، ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← وحدثنا يوسف القاضي و موسى بن هارون ← مُسَدَّدٌ ← وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أبو نعيم و عارم ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 919

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ سليمان بن يسار عن أبي رافع · حديث 920

916 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا صالح بن كيسان أنه سمع سليمان بن يسار يحدث عن أبي رافع قال Y لم يأمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أنزل ثم يعني الأبطح ولكن أنا ضربت قبته فجاء فنزل قال سفيان : وكان عمرو بن دينار يحدث بهذا الحديث عن صالح بن كيسان فلما قدم علينا قال لنا عمرو بن دينار : اذهبوا إلى هذا فسلوه عن هذا الحديث

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وادئی ابطح میں اُتر نے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن میں نے وہاں خیمہ لگایا تھا ، آپ تشریف لائے ، آپ اُترے ۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن دینار یہ حدیث حضرت صالح بن کیسان کے حوالے سے بیان کرتے : جب ہمارے پاس آئے تو ہمیں حضرت عمر و بن دینار نے فرمایا: ان کی طرف جاؤ اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھو۔

صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 920

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ سليمان بن يسار عن أبي رافع · حديث 921

917 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا موسى بن داود الضبي ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا معلى بن مهدي قالا ثنا شريك عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن علي بن حسين عن أبي رافع قال Y لما ولدت فاطمة حسنا رضي الله عنهما قالت : يا رسول الله ألا أعق عن ابني ؟ قال : ( لا ) ولكن احلقي رأسه وتصدقي بوزن شعره ورقا ) أو قال : ( فضة على المساكين ) فلما ولدت حسينا فعلت به مثل ذلك وقال موسى بن داود في حديثه على الأوفاض والمساكين

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں حضرت سید نا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی تو حضرت سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : یار سول اللہ ! کیا میں اپنے بیٹے کا عقیقہ نہ کروں ! آپ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ اس کے سر کے بال اتار و اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی مساکین پر صدقہ کرو۔ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والادت ہوئی تو حضرت سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایسے ہی کیا ۔ حضرت موسیٰ بن داؤد نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا : کمزور اور مساکین پر صدقہ کر و۔

لما ولدت فاطمة حسنا ← أَبِي رَافِعٍ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← شَرِيکٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 921

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ سليمان بن يسار عن أبي رافع · حديث 922

918 - حدثنا عبدان بن أحمد و محمد بن عبد الله بن رسته الأصبهاني قالا ثنا سعيد بن أبي الربيع السمان ثنا سعيد بن سلمة بن أبي الحسام عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن علي بن الحسين عن أبي رافع Y أن الحسن بن علي رضي الله عنه حين ولدته فاطمة أرادت أن تعق عنه بكبش عظيم فأتت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( لا تعقي عنه بشيء ولكن احلقي شعر رأسه ثم تصدقي بوزنه من الورق في سبيل الله عز و جل على الأوفاض ) ثم ولدت الحسين بن علي رضي الله عنه من العام المقبل فصنعت به كذلك

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی جس وقت حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والادت ہوئی تو حضر ت سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارادہ کیا کہ بہت بڑے مینڈھے کے ساتھ عقیقہ کریں ۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئیں، آپ نے فرمایا: کسشے سے عقیقہ نہ کر و بلکہ اس کے سر کے بال اتار و ، پھر چاندی کے ساتھ وزن کر کے وہ چاندی کمزور اور مساکین پر صدقہ کر دو ۔ پھر آئندہ سال حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی والادت ہوئی تو آپ کے ساتھ بھی ایسے ہی کیا گیا ۔

عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← سعيد بن أبي الربيع السمان ← عبدان بن أحمد و محمد بن عبد الله بن رسته الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 922

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ سليمان بن يسار عن أبي رافع · حديث 923

919 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا إسماعيل بن عبد الله بن زرارة الرقي ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن علي بن الحسين عن أبي رافع أن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( من حفظ ما بين فقميه وفخذيه دخل الجنة )

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو گیا ۔

أَبِي رَافِعٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 923

chevron_left Previous
1…454647…54
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter