Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 42 - أنس بن مالك القشيري يكنى أبا أمية ويقال أبو مية كان ينزل البصرة · حديث 768

764 - حدثنا موسى بن هارون و الحسين بن إسحاق التستري قالا ثنا أبو الربيع الزهراني حدثنا حماد عن أيوب عن أبي قلابة عن رجل من بني عامر قال أيوب قال لي أبو قلابة Y هو حي فالقه واسمع منه الحديث قال أيوب فلقيت العامري فحدثني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث خيلا فأغارت على إبل جار لنا فذهبت بها فانطلق في ذلك إما قال أبي وإما قال عمي أو قال قرابة قريبة منه فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذاك قال : فأتيته وهو يأكل فقال : ( هلم الغداء ) فقلت : إني صائم قال : ( هلم أحدثك عن ذلك إن الله عز و جل وضع عن المسافر الصيام وشطر الصلاة وعن الحبلى ) أو قال : ( المرضع ) وأمر بالإبل فردت فكان إذا حدث بهذا الحديث تلهف ويقول : ألا كنت أكلت من طعام رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت ابو قلابہ بنی عامر کے قبیلہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، حضرت ایوب نے فرمایا : مجھے حضرت ابو قلابہ نے بیان کیا: وہ آدمی زندہ ہے ، ان سے ملو، ان سے آپ حدیث سنیں۔ حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ میں عامری سے ملا، مجھے حدیث بیان کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گھڑ سوار قافلہ بھیجا، اس نے ہمارے پڑوسی کے اونٹوں پر حملہ کیا ، اس کو لے گیا اس کو لے کر چلا ۔ میرے والد یا میرے چچا یا کسی قریبی نے کہا: وہ اس معاملہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ کے پاس آیا تو آپ کھانا تناول کررہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ!کھانا کھاؤ!میں نے عرض کی : میں روزہ کی حالت میں ہوں۔ آپ نے فرمایا :آؤ!کھاناکھاؤ!کیونکہ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے اور نماز بھی آدھی فرض کی ہے اور حاملہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے ۔ آپ نے انٹوں کے متعلق حکم دیا کہ ان کو واپس کردے۔ یہ حدیث جب بھی بیان کرتے تو افسوس کرتے ، کہتے: میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھالیتا تو بہتر تھا۔

أيوب فلقيت العامري فحدثني ← لي أبو قلابة هو حي فالقه واسمع منه الحديث ← أَيُّوبَ، ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← موسى بن هارون و الحسين بن إسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 768

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 42 - أنس بن مالك القشيري يكنى أبا أمية ويقال أبو مية كان ينزل البصرة · حديث 769

765 - حدثنا فضيل بن محمد الملطي ثنا أبو نعيم ( ح ) وحدثنا الحضرمي ثنا شيبان بن فروخ ( ح ) وحدثنا أحمد بن داود المكي ثنا كامل بن طلحة الجحدري و هدبة بن خالد قالوا ثنا أبو هلال عن عبد الله بن سوداة عن أنس بن مالك رجل من بني كعب قال Y أغارت علينا خيل لرسول الله صلى الله عليه و سلم فانتهيت إليه وهو يأكل فقالل : ( اجللس فأصب من طعامنا هذا ) فقللت : يا رسول اللهل إني صائم قال : ( اجلس أحدثك عن الصلاةة وعن الصوم إن الله وضع شطر أو نصف الصلاة عن المسافر ووضع الصوم أو الصيام عن المسافر والمريض واللحامل ) والله لقد قالها جميعا أو إحداها فلمت نفسي ألا أكون أكلت من طعام رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت انس بالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بنی کعب کے ایک آدمی نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک گھڑ سوار قافلہ نے ہمارے اوپر غارت کی ہے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کھانا تناول کررہے تھے ، آپ نے فرمایا: آؤ !کھاناکھاؤ!میں نے عرض کی : میں روزہ کی حالت میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : بیٹھو!میں تمہیں نماز اور روزہ کے بارے میں بتاتاہوں، بے شک اللہ عزوجل نے مسافر ، بیماراور حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے اور نماز بھی آدھی فرض کی ہے تو بعد میں افسوس کرتے ، کہتے : میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھالیتا تو بہتر تھا۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَعْبٍ ← عبد الله بن سوداة ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← كامل بن طلحة الجحدري و هدبة بن خالد ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَضْرَمِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 769

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 42 - أنس بن مالك القشيري يكنى أبا أمية ويقال أبو مية كان ينزل البصرة · حديث 770

766 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرحج المصري ثنا يوسف بن عدي ثنا عبد الرحيمن بن سليمان عن أشعث عن ابن سوادة القشيري عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال Y أغارت علينا خيل لرسول الله صلى الله عليه و سلم فانطلقت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يأكل فقال : ( اجلس فأصب من طعامنا ) فقلت : إني صائم فقال : ( اجلس أحدثك عن الصلاة وعن الصيام إن الله وضع شطر الصلاة عن المسافر ووضع الصيام عن المسافر وعن المرضع ) فلمت نفسي ألا أكون أكلت من طعام رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک گھڑ سوار قافلہ نے ہمارے اوپر حملہ کیا، میں آپ کے پاس آیا تو آپ کھانا تناول کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا: آؤ!کھانا کھاؤ!میں نے عرض کی : میں روزہ کی حالت میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : بیٹھو!ابھی میں نماز اور روزے کے متعلق تجھے بتاتاہوں ، اللہ نے مسافر کو آدھی نماز معاف کی ہے ، مسافر اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے ، میں نے اپنے آپ کو ملامت کیا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا لیتا تو بہتر تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ ← أَشْعَثَ، ← عبد الرحيمن بن سليمان ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← عمرو بن أبي الطاهر بن السرحج المصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 770

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 42 - أنس بن مالك القشيري يكنى أبا أمية ويقال أبو مية كان ينزل البصرة · حديث 771

767 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا هناد بن السري ثنا عبثر ابن القاسم ثنا أشعث بن سوار عن علي بن زيد عن زرارة بن أوفى عن رجل منهم Y أنه دخل على النبي صلى الله عليه و سلم وهو يأكل فقال : ( هلم ) فقال : إني صائم فقال : ( هلم أحدثك إن الله وضع عن المسافر الصيام وشطر الصلاة )

حضرت زرارہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ کھانا تناول فرمارہے تھے، آپ نے فرمایا:آؤ!کھاؤ!اس نے عرض کی : میں روزہ کی حالت میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: آؤ!میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے اور آدھی نماز معاف کی ہے ۔

رَجُلٍ مِنْهُمْ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← عبثر ابن القاسم ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 771

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 43 - أنس بن النضر الأنصاري عم أنس بن مالك رضي الله عنه · حديث 772

768 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري ثنا حميد عن أنس بن مالك Y أن الربيع بن النضر عمته لطمت جارية وكسرت سنها فعرضوا عليهم الإرش فأبوا فطلبوا العفو فأبوا فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فأمرهم بالقصاص فجاء أخوها أنس بن النضر فقال : يا رسول الله أتكسر سن الربيع ؟ لا والذي بعثك بالحق لا تكسر سنها فقال : ( يا أنس كتاب الله القصاص ) فعفا القوم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع بنت نضر نے (میری پھوپھی) اپنی لونڈی کو تھپڑ مارا تو اس کے دانت ٹوٹ گئے، اسے اس کی دیت دی گئی تو انے لینے سے انکار کر دیا ، ان سے معافی تو اُنہوں نے انکار کر دیا ، وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے قصاص کاحکم دے دیا ۔ بنوربیع کے بھائی حضرانس بن نضر آئے ، عرض کی: یا رسواللہ !کیا آپ ربیع کے دانت توڑیں گے ؟ ایسا نہیں ہو سکتا!قسم اُس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے !اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے ۔ آپ نے فرمایا : اے انس!اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے ۔ لوگوں معاف کردیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اُٹھائیں تواللہ عزوجل قسم پوری کرتا ہے ۔

حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 772

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 43 - أنس بن النضر الأنصاري عم أنس بن مالك رضي الله عنه · حديث 773

769 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا بشر بن الوليد الكندي ثنا محمد بن طلحة بن مصرف عن حميد عن أنس بن مالك Y أن عمه أنس بن النضر غاب عن قتال بدر فقال : غبت عن أول قتال رسول الله صلى الله عليه و سلم المشركين لئن أشهدني الله مع رسول الله ليرين الله ما أصنع فلما كان يوم أحد لقي المشركين وهزم الناس فقال : اللهم إني أعتذر إليك مما صنع هؤلاء يعني المسلمين وأبرأ إليك مما جاء به هؤلاء يعني المشركين ثم أخذ السيف فلقي سعد بن معاذ فقال : أي سعد إني لأجد ريح الجنة دون أحد فمضى فقتل فما عرف حتى عرفته أخته من حسن بنانه وإذا به بضع وثمانون من طعنة برمح وضربة بسيف ورمية بسهم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے چچا حضرت انس بن نضر بدر کی جنگ میں شریک نہیں ہوئے ، میرے چچا نےکہا: میں اس جنگ میں شریک نہیں ہو سکا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکوں کو مارا ہے ، اللہ عزوجل نے مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ کا موقع دیا تو اللہ بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتاہوں، جب اُحد کا دن تھا تو مشرکوں سے لڑائی ہوئی ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کسی وجہ سے شکست کا شکار ہونے لگے ، حضر ت انس بن نضر نے کہا : اے اللہ !جو اُنہوں نے کیا ہے ، میں اس سے معذور ہوں ، جو مشر کین لے کر آئے ہیں ، ان سے بُری ہوں ، پھر تلوار پکڑ کر حضرت سعد بن معاذ سے مل کر کہا : اے سعد!میں اُحد کی طرف سے جنت کی خوشبو محسوس کررہا ہوں ۔ آپ چلے اور شہید ہو گئے (مشرکوں ے آپ کا مثلہ کر دیا تھا ) اس لیے آپ لا شہ نہ پہنچا نا جا سکا۔ آپ کی بہن نے آپ کو پوروں سے پہنچانا ، آپ کے جسم پر اسی سے زیادہ نیزہ ، تلوا ر اور تیر کے زخم تھے۔

غِبْتُ ← قتال بدر ← أنس بن مالك أن عمه أنس بن النضر غاب ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 773

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 44 - أنس بن معاذ بن أوس الأنصاري · حديث 774

770 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا محمد بن إسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من استشهد من الأنصار يوم الخندق أنس بن معاذ بن أوس بن عبد عمرو

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ انصارمیں سے جو خندق کے دن شریک ہوئے ، ان ناموں سے میں ایک نام حضر ت انس بن معاذ بن اوس بن عبد عمرو ہے ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 774

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 45 - أنس بن أوس الأنصاري رضي الله عنه · حديث 775

771 - حدثنا الحسن بن هارون بن سليمان ثنا محمد بن إسحاق المسيبي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب Y في تسمية من استشهد يوم الجسر من الأنصار ثم من بني عبد الأشهل أنس بن أوس

حضرت ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جسر کے دن انصار اور بنی عبداشہل میں سے جو شریک ہوئے ، اُن ناموں میں سے ایک نام حضرت انس بن اوس کا ہے ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 775

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 46 - أنيس بن أبي مرثد الغنوي ويقال أنيس يكنى أبا زيد باب من اسمه أنيس · حديث 776

772 - حدثنا محمد بن عبدة المصيصي ثنا أبو توبة الربيع بن نافع ثنا معاوية بن سلام عن زيد بن سلام أنه سمع أبا سلام يقول حدثني السلولي أنه حدثه سهل بن الحنظلية Y أنهم ساروا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم خيبر وذكر الحديث يكتب تمامه من باب السين سهل بن الحنظلية

حضرت سہل بن حنظلیہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیبر کے دن چل رہے تھے ۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر کی ، مکمل حدیث باب السین میں لکھی گئی ہے ، سہل بن حنظلیہ کے نام سے اور باب زاء میں زید بن رافع کے نام سے رجم والے واقعہ میں۔

زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 776

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 48 - أنيس بن جنادة الغفاري أخو أبي ذر رضي الله عنه يكتب من باب الزاي زيد بن رافع قصة الرجم · حديث 777

773 - حدثنا أبو عبد الملك أحمد بن إبراهيم القرشي ثنا محمد بن عائد ثنا الوليد بن مسلم ثنا أبو طرفة عباد بن الريان اللخمي قال : سمعت عروة بن رويم اللخمي يقول حدثني عامر بن لدين قاضي الناس مع عبد الملك بن مروان قال سمعت أبا ليلى الأشعري يقول حدثني أبو ذر قال Y إن أول ما دعاني إلى الإسلام أنا كنا قوما عربا فأصابتنا السنة فحملت أمي و أخي وكان اسمه أنيسا إلى أصهار لنا بأعلى نجد فلما حللنا بهم أكرمونا فلما رأى ذلك رجل من الحي مشى إلى خالي فقال : تعلم أن أنيسا يخالفك إلى أهلك ؟ فحز في قلبه فانصرف من رعية إبلي فوجدته كئيبا يبكي فقلت : ما بكاؤك يا خال فأعلمني الخبر فقلت : حجز اله منم ذلك إنا نعاف الفاحشة وإن كان الزمان قد أحل بنا ولقد كدرت علينا صفو ما ابتدأتنا به ولا سبيل إلى اجتماع فاحتملت أمي وأخي حتى نزلنا بحضرة مكة فقالل أخي : إني مدافع رجلا شاعرا فقلت : لا تفعل فخرج به اللجاج حتى دافع دريد بن الصمة صرمته إلى صرمته وأيم الله لدريد يومئذ أشعر من أخي فتقاضيا إلى خنساء ففضلت أخي على دريد وذاك أن دريدا خطبها إلى أبيها فقالت شيخ كبير لا حاجة لي فيه فحقدت ذلك عليه فضممنا صرمته إلى صرمتنا فكانت لنا هجمة قال : ثم أتيت مكة فابتدأت بالصفا فإذا عليها رجالات قريش وقد بلغني أن بها صابئ أو مجنون أو شاعر أو ساحر فقلت : أين هذا الذي تزعمونه ؟ قالوا : ها هو ذاك حيث ترى فانقلبت إليه فوالله ما جزت عنهم قيس حجر حتى أكبو علي كل عظم وحجر ومدر فضرجوني بدمي فأتيت البيت فدخلت بين الستور والبناء وصومت فيه ثلاثين يوما لا آكل ولا أشرب إلا من ماء زمزم حتى إذا كانت ليلة قمراء أضحيان أقبلت امرأتان من خزاعة فطافتا بالبيت ثم ذكرتا أساف و نائلة وهما وثنان كانوا يعبدونهما فأخرجت رأسي من تحت الستور فقلت احملا أحدهما على صاحبه فغضبتا ثم قالتا : أم والله لو كانت رجالنا حضورا ما تكلمت بهذا ثم ولتا فخرجت أقفوا آثارهما حتى لقينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( ما أنتما ؟ ومن أين أنتما ؟ ومن أين جئتما ؟ وما جاء بكما ؟ ) فأخبرتاه الخبر فقال : ( أين تركتما الصابئ ؟ ) فقالتا تركناه بين الستور والبناء فقال لهما : ( هل قال لكما شيئا ؟ ) قالتا : نعم كلمة تملأ الفم فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم انسلتا وأقبلت حيث رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سلمت عليه عند ذلك فقال : ( من أنت ؟ وممن أنت ؟ ومن أين أنت ؟ ومن أين جئت ؟ وما جاء بك ؟ ) فأنشأت أعلمه الخبر فقال : ( من أين كنت تأكل وتشرب ؟ ) فقلت : من ماء زمزم فقال : ( أما إنه طعام طعم ) ومعه أبو بكر رضي الله عنه فقال : يا رسول الهل ائذن لي أن أعشيه قال : ( نعم ) ثم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشي وأخذ أبو بكر رضي الله عنه بيدي حتى وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم بباب أبي بكر رضي الله عنه ثم دخل أبو برك بيته ثم أتي بزبيب من زبيب الطائف فجعل يلقيه لنا قبضا قبضا ونحن نأكل منه حتى تملأنا منه فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا أبا ذر ) فقلت : لبيك فقال : ( أما إنه قد رفعت للي أرض وهي ذات ماء لا أحسبها إلا تهاخة فاخرج إلى قومك فادعهم إلى ما دخلت فيه ) قال : فخرجت حتى أتيت أمي وأخي فأعلمتهما الخبر فقالا : ما بنا رغبة عن الدين الذي دخلت فيه فأسلما ثم خرجنا حتى أتينا المدينة فأعلمت قومي فقالوا : إنا قد صدقناك ولكن نلقى محمدا صلى الله عليه و سلم فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم لقيناه فقالت له غفار : يا رسول الله إن أبا ذر أعلمنا ما أعلمته وقد أسلمنا وشهدنا أنك رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم تقدمت أسلم وخزاعة فقالوا : يا رسول الله إنا قد رغبنا ودخلنا فيما دخل فيه إخواننا وحلفاؤنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أسلم سالمها الله وغفار غفر الله لها ) ثم أخذ أبو بكر رضي الله عنه بيدي فقال : يا أبا ذر فقلت : لبيك يا أبا بكر فقال : هل كنت تأله في جاهليتك ؟ قلت : نعم لقد رأيتني أقوم عند الشمس ولا أزال مصليا حتى يؤذيني حرها فأخر كأني خفاء فقال لي : فأين كنت توجه ؟ قلت : لا أدري إلا حيث وجهني الله عز و جل حتى أدخل الله علي الإسلام

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شی نے مجھے اسلام کی دعوت دی، وہ یہ تھی کہ ہم دیہاتی لوگ تھے، ہم کو فاقہ پہنچا تو میں نے اپنی امی اور اپنے بھائی کو اُٹھایا ، بھائی کا نام انیس تھا ، نجد کی اونچی جگہ، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہماری عزت کی، جب یہ قبیلہ سے ایک آدمی نے دیکھا تو وہ میرے خالوکے پاس گیا، اس نے کہا: آپ کو معلوم ہے کہ انیس آپ کے اہل خانہ کی مخالفت کرتا ہے ؟اس نے یہ بات اپنے دل میں رکھ لی ، میں اونٹ چرا کر ان کی طرف گیا ۔ وہ پریشان رو رہے تھے ، میں نے کہاں : اے خالو!آپ کو کس نے رُلا یا ہے ؟ مجھے انہوں نے معاملہ بتایا تو میں نے کہا: اللہ عزوجل نے اس سے روک دیا ہے ، ہم تو بے حیائی ناپسند کرتے ہیں ، اگر چہ زمانہ ہم پر مسلط ہو گیا ہے تو ہم کو گدلا کر دیا جس صفائی پر ہم ابتداءسے تھے ۔ بُرئی اور اچھائی جمع نہیں ہو سکتی ، میں نے اپنی امی اوربھائی کو اُٹھایا یہاں تک کہ ہم مکہ کے پاس آکر اُترے ۔ میرے بھائی نے کہا : ایک شاعر نے شعر بازی کا مقابلہ رکھا ہو تھا ، میرا بھائی شاعر تھا ۔ میں نے کہا: آپ ایسا نہ کریں ان کو لجاج نامی آدمی لے کر نکلا ، یہاں تک کہ دریدبن صمہ کو ایک دوسرے سے شعر بازی یں ہوتا ہے ، اللہ کی قسم! دریدان دنوں میرے بھائی سے زیادہ شاعر تھا ۔ اور خنساء کے متعلق جھگڑے ۔ خنساء نے میرے بھائی کو اختیار کیا ، درید نے مقابلہ کیا ۔ اس وجہ سے کہ درید نے اپنے والد کے لیے نکاح کا پیغام دیا تھا ۔ خنساء نے کہا: وہ بہت بزرگ ہے ، اس کو کوئی ضرورت نہیں ہے ، وہ اس سے نفرت کرتی تھی ، ہم نے اس کو ایک طرف سے دوسری کی طرف پھر دیا ۔ اس نے ہم کو جواب دیا: پھر یں مکہ آیا تو میں نے صفاء سے ابتداءکی۔ وہاں قریش کے چند مرد تھے، خبر پہنچی کہ وہاں ستارہ پر ست یا مجنون یا شاعرہ جادو گر ہے ۔ میں نے کہا: وہ کہاں ہے جو گمان کرتاہے ؟ انہوں نے کہا : وہ یہاں یہی ہے ، جس جگہ آپ دیکھ رہے ہیں ۔ میں اس کی طرف پلٹا۔ اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے مارا جس سے میں خون سے لت پت ہو گیا ، میں مسجد کے پاس آیا تو میع کعبہ کے پردوں کے درمیان داخل ہوا، وہاں میں تیس دن ٹھہرا ، میں نے سوائے آب زم زم کےنہ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ چاندوالی راتیں آئیں تو قبیلہ خزاعہ سے دو عورتیں آئیں ، دونوں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا ، پھر دونوں نے اساف اور نائلہ کا ذکرکیا ، یہ دونوں بتوں کے نام ہیں ۔ دونوں کی عبادت کی جاتی تھی ، میں نے پردوں کے نیچے سے اپنا سر نکالا۔ میں نے کہا: ان دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی کو اُٹھا ئے ۔ دونوں عورتوں کو غصہ آیا ، پھر دونوں عورتوں کو غصہ آیا ، پھر دونوں نے کہا: بہر حال اللہ کی قسم !اگر ہمارے مرد موجود ہوتے تو یہ گفتگو نہ کرتا۔ پھر وہ لوٹنے لگیں ، میں نکلا اور دونوں کے پیچھے چلا۔ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملیں۔ آپ نے فرمایا : تم دونوں کون ہو؟ کس قبیلہ سے ہو؟ کہاں سے آئی ہو: کون سی شی لائی ہے آپ کی؟ دونوں نے بتایا، آپ نے فرمایا :دونوں اس بے دین کو کہاں چھوڑ کر آئی ہو؟ دونوں نے کہا: ہم اسے کعبہ کے پردوں کے درمیان چھوڑ کر آئی ہیں ۔ آپ نے دونوں سے فرمایا: کیا اس نے ہم دونوں کو کہاہے کوئی شی؟ ان دونوں نےکہا :جی ہاں !ایسی بات کہ جس سے ہمارا منہ بند ہو گیا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا ، پرھ دونوں چلی گئیں ، میں پلٹا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ کو سلام کیا جو آپ کے پاس تھا ، آپ نے فرمایا :کون ہے اور کس قبیلہ سے تعلق ہے ؟ کہاں سے آئے ہو؟ کیسے آئے ہو؟ میں نے آپ کو بتایا ، آپ نے فرمایا: اتنی دیر کیا کھاتے پیتے رہے ہو؟ میں نے عرض کی: آب زمزم! آپ نے فرمایا : آب زمزم کھانے کا کھانا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ حضرت ابو بکر نے عرض کی: یار سول اللہ ! مجھے اجازت دیں !رات کے کھانے کی دعوت کی۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے ، پھر رسوللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے ۔ حضرت ابوبکر نے میرا ہاتھ پکڑ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر کے دروازے پرکھرے ہوئے ۔ پھر حضرت ابو بکر اپنے گھر داخل ہوئے ، آپ طائف کی کشمس لائے ، ہم کو ایک مٹھی دینے لگے ، ہم اس سے کھاتے رہے یہاں تک کہ ہمارا پیٹ بھر گیا۔ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر !میں نے عرض کی: لبیک ! آپ نے فرمایا : میرے سامنے کھجور والی زمین ظاہر ہوگئی ہے ، میرا خیال ہے کہ وہ تہمامہ ہے ، تم اپنی قوم کے پاس جاؤ ، ان کو اس دین کی دعوت دو جس میں تم داخل ہوئے ہو۔ میں نکلا یہاں تک کہ اپنی امی اور بھائی کے پاس آیا ، دونوں کو بتایا تو دونوں نے کہا : جی ہاں ! دین میں آپ داخل ہوئے ہیں ہم کو اس سے رغبت ہے ۔ ہم مسلمان ہوئے پھر ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ آئے ، میں نے اپنی قوم کو بتایا تو انہوں نے کہا: ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں لیکن ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کریں گے ، جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے ملاقات کی۔ بنو غفار نے عرض کی : یا رسول اللہ !ابو ذر نے ہم کو بتایا جوآپ نے بتایا ہے ، ہم مسلمان ہوئے ، ہم نے گواہی دی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر قبیلہ اسلم اور خزاعہ والے آگے بڑھتے انہوں نے عرض کی : یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو شوق تھا اور ہم اس میں داخل ہوئے ، جس میں ہمارے بھائی اور پیچھے آنے والے داخل ہوئے ہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ اسلم والوں کو سلامتی عطافرما!قبیلہ غفار والوں کیااللہ نے مغفرت فرمادی ہے ۔ پھر حضرت ابو بکر نے میرا ہاتھ پکڑا ، فرمایا: اے ابوذر !میں نے عرض کی اے ابوبکر !لبیک !آپ نے فرمایا : تو جاہلیت میں سخت تھا؟ میں عرض کی : جی ہاں ! میں سورج کی گرمی میں کھڑا ہو جاتا ، میں مسلسل نماز پڑھتا رہا یہاں تک کہ مجھے گرمی نے تکلیف دی ، میں گرا، گویا میں کپڑے کا پردہ ہوں ۔ حضرت ابوبکر نے مجھے فرمایا : آپ نے منہ کس طرف کیا تھا ؟ میں نے عرض کی: مجھے معلوم نہیں مگر جس طرف اللہ نے میرا منہ پھیر دیا یہاں تک کہ مجھے اسلام لانے کی توفیق دی۔

أَبُو ذَرٍّ ← أَبَا لَيْلَى الْأَشْعَرِيَّ ← عَامِرُ بْنُ لُدَيْنٍ قَاضِي النَّاسِ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ← أَبُو طَرْفَةَ عَبَّادُ بْنُ الرَّيَّانِ اللَّخْمِيُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← محمد بن عائد ← أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 777

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 49 - أنيس بن عتيك بن عامر الأنصاري ويقال أوس · حديث 778

774 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من قتل يوم جسر المدائن من الأنصار من بني عبد الأشهل ثم من بني زعوراء أنيس بن عتيك بن عامر

حضرت عروہ سے روایت ہے کہ انصار اور بنی عبداشہل اور بنی زعوراء میں سے جسر مدائن کے دن جو شہید کیے گئے ، ان کے ناموں میں سے انیس بن عتیک بن عامر بھی ہے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 778

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 49 - أنيس بن عتيك بن عامر الأنصاري ويقال أوس · حديث 779

775 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق Y في تسمية من قتل يوم الجسر من الأنصار ثم من بني عبد الأشهل ثم من بني زعوراء أوس بن عتيك بن عامر

حضرت عروہ سے روایت ہے کہ انصار اور بنی عبداشہل اور بنی زعوراء میں سے جسر کے دن جو شہید کیے گئے ، ان کے ناموں میں سے انیس بن عتیک بن عامر بھی ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 779

chevron_left Previous
1…333435…54
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter