المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 42 - أنس بن مالك القشيري يكنى أبا أمية ويقال أبو مية كان ينزل البصرة · حديث 768
764 - حدثنا موسى بن هارون و الحسين بن إسحاق التستري قالا ثنا أبو الربيع الزهراني حدثنا حماد عن أيوب عن أبي قلابة عن رجل من بني عامر قال أيوب قال لي أبو قلابة Y هو حي فالقه واسمع منه الحديث قال أيوب فلقيت العامري فحدثني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث خيلا فأغارت على إبل جار لنا فذهبت بها فانطلق في ذلك إما قال أبي وإما قال عمي أو قال قرابة قريبة منه فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذاك قال : فأتيته وهو يأكل فقال : ( هلم الغداء ) فقلت : إني صائم قال : ( هلم أحدثك عن ذلك إن الله عز و جل وضع عن المسافر الصيام وشطر الصلاة وعن الحبلى ) أو قال : ( المرضع ) وأمر بالإبل فردت فكان إذا حدث بهذا الحديث تلهف ويقول : ألا كنت أكلت من طعام رسول الله صلى الله عليه و سلم
حضرت ابو قلابہ بنی عامر کے قبیلہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، حضرت ایوب نے فرمایا : مجھے حضرت ابو قلابہ نے بیان کیا: وہ آدمی زندہ ہے ، ان سے ملو، ان سے آپ حدیث سنیں۔ حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ میں عامری سے ملا، مجھے حدیث بیان کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گھڑ سوار قافلہ بھیجا، اس نے ہمارے پڑوسی کے اونٹوں پر حملہ کیا ، اس کو لے گیا اس کو لے کر چلا ۔ میرے والد یا میرے چچا یا کسی قریبی نے کہا: وہ اس معاملہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ کے پاس آیا تو آپ کھانا تناول کررہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ!کھانا کھاؤ!میں نے عرض کی : میں روزہ کی حالت میں ہوں۔ آپ نے فرمایا :آؤ!کھاناکھاؤ!کیونکہ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے اور نماز بھی آدھی فرض کی ہے اور حاملہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے ۔ آپ نے انٹوں کے متعلق حکم دیا کہ ان کو واپس کردے۔ یہ حدیث جب بھی بیان کرتے تو افسوس کرتے ، کہتے: میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھالیتا تو بہتر تھا۔
أيوب فلقيت العامري فحدثني ← لي أبو قلابة هو حي فالقه واسمع منه الحديث ← أَيُّوبَ، ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← موسى بن هارون و الحسين بن إسحاق التستري
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 768
