المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ صفة أنس بن مالك وهيأته رضي الله عنه · حديث 708
704 - حدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا قطن بن نسير الذراع حدثنا جعفر بن سليمان عن علي بن زيد قال Y كنت في القصر مع الحجاج وهو يعرض الناس من أجل ابن الأشعث فجاء أنس بن مالك حتى دنا فقال له الحجاج : هيه يا خبثة جوال في الفتنة مرة مع علي بن أبي طالب ومرة مع ابن الزبير ومرة مع ابن الأشعث أما والذي نفسي بيده لأستأصلنك كما تستأصل الصمغة ولأجردنك كما يجرد الضب فقال : من يعني الأمير أصلحه الله ؟ قال الحجاج إياك أعني أصم الله سمعك فاسترجع أنس رضي الله عنه فقال : إنا لله وإنا إليه راجعون ثم خرج من عنده فقال : لولا أني ذكرت ولدي فشخيته عليهم لكلمته في مقامي بكلام لا يستجيبني بعده أبدا
حضرت علی بن زید فرماتے ہیں کہ میں حجاج کے ساتھ محل میں تھا ، وہ ابن اشعث کے حوالے سے لوگوں کو کچھ پیش کر رہا تھا پس حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ آئے یہاں تک کہ قریب ہو گئے پس حجاج نے آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : پیچھے ہو جاؤ ! اے اندر کے وہ ۔ فتنہ کے دوران گھومنے والے کبھی علی بن ابو طلب، کبھی ابن زبیر اور کبھی ابن اشعث کے ساتھ لیکن قسم بخدا ! جس کے قبضے میں میری جان ہے ! میں تمہیں چمٹا دیتا ہوں جیسے گوند چمٹایا جاتا ہے اور تمہیں گوہ کی طرح ننگا کر دوں گا۔ آپ نے فرمایا : اللہ امیر کی اصلاح فرمائے ! اس کی مراد کیا ہے ؟ حجاج بولا : میری مراد تو ہی ہے ۔ اللہ تیری قوت سماعت ختم کر دے ، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے " انا للہ و انا الیہ راجعون " پڑھا پھر اس کے پاس سے اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور فرمایا : اگر مجھے اپنی اولاد کی یاد نہ ہوتی اور ان پر اس کا خوف نہ ہوتا ( کہ یہ ان کو نقصان پہنچائے گا ) تو میں اسی مقام پر اس سے ایسی کلام کرتا کہ وہ اس کے بعد مجھے کبھی دعوت نہ دیتا۔
عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الذِّرَّاعُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 708
