المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن سعد بن أبي وقاص ووفاته رضي الله عنه · حديث 313
311 - حدثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا زكريا بن يحيى زحمويه حدثنا زياد بن عبد الله البكائي عن عبد الملك بن عمير عن قبيصة بن جابر الأسدي قال قال ابن عم لنا يوم القادسية Y ( ألم تر أن الله أنزل بصره ... و سعد بباب القادسية معصم ) ( فأبنا وقد آمت نساء كثيرة ... ونسوة سعد ليس فيهن أيم ) فلما بلغ سعدا رضي الله عنه قوله قال : اللهم أقطع عني لسانه ويده فجاءت نشابة فأصابت فاه فخرس ثم قطعت يده في القتال فقال سعد : احملوني على باب فخرج به محمولا ثم كشف عن ظهره وبه قروح في ظهره فأخبر الناس بعذره فعذروه وكان سعد لا يجبن وقال إنما فعلت هذا لما بلغني من قولكم
حضرت قبیصہ بن جابر اسدی فرماتے ہیں کہ ہمارے چچا کے بیٹے نے قادسیہ کے دن ہمیں کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ اللہ نے مدد نازل کی ہے ، سعد قادسیہ کے ایک دروازے پر بند ہے ، ہم لوٹے ، بہت زیادہ عورتیں بیوہ ہوئیں ، سعد کی عورتیں ان میں بیوہ نہیں ہیں۔" جب یہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے عرض کی: اے اللہ ! میری طرف سے اس کی زبان اور ہاتھ کاٹ دے۔ تیر آکر اس کے منہ پر لگا ، وہ گونگا ہو گیا، پھر جنگ میں اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس کے دروازے پر لے چلو! آپ کو لے جایا گیا، پھر اس کی پشت ننگی کی ، اس کی پشت پر زخم تھے، لوگوں نے اس کا عذر بتایا تو آپ نے عذر قبول کیا، حضرت سعد بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے ۔ فرماتے تھے : میں نے ایسے اس لیے کیا کہ اس کی بات مجھ تک پہنچی۔
قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،:
Hadith 313
