Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 125

124 - حدثنا المقدام بن داود المصري ثنا أبو الأسود النضر بن عبد الجبار حدثنا ابن لهيعة حدثني يزيد بن عمرو المعافري قال سمعت أبا ثور النهمي يحدث عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال Y لقد اختبأت عند ربي عشرا إني لرابع أربعة في الإسلام وما تعنيت ولا تمنيت ولا وضعت يميني على فرجي منذ بايعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وما مرت علي جمعة منذ أسلمت إلا وأنا أعتق فيها رقبة إلا أن يكون عندي فأعتقها بعد ذلك ولا زنيت في جاهلية ولا إسلام

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دس چیزوں میں اپنے رب کے پاس منفرد تھے: اسلام لانے میں چوتھا میں ہوں ، مجھے تھکاوٹ ہوئی ، کبھی بھی دنیاوی چیز کی تمنا نہ کی، اپنا دائیاں ہاتھ اپنی شرمگاہ پر نہ رکھا جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت ہوا، جب سے اسلام قبول کیا ہر جمعہ ایک غلام آزاد کیا اگر کبھی جمعہ کے دن میرے پاس نہیں ہوا تو اس کے بعد کیا ، نہ زمانہ جاہلیت میں نہ کبھی اسلام میں زنا کیا۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أبا ثور النهمي ← يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← اَبُو الْاَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 125

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 126

125 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي حدثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا كليب بن وائل عن حبيب بن أبي مليكة يكنى أبا ثور قال Y كنت جالسا عند ابن عمر فأتاه رجل فسأله فقال : أرأيت عثمان هل شهد بدرا ؟ فقال : لا أما يوم بدر فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك ) فضرب له رسول الله صلى الله عليه و سلم بسهمه

حضرت ابو ثور حبیب بن ابو ملیکہ فرماتے ہیں : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے آپ کے پاس آکر سوال کیا : کیا آپ نے عثمان کو بدر میں حاضر دیکھا؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! لیکن بدر کے دن ، کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام میں مصروف تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا حصہ مال غنیمت سے مقرر فرمایا:

لا أما يوم بدر فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أرأيت عثمان هل شهد بدرا ← كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ ← حبيب بن أبي مليكة يكنى أبا ثور ← کُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 126

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 127

126 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة قال Y عثمان بن عفان تخلف في المدينة على امرأته بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم وكانت وجعة معرة فضرب له رسول الله صلى الله عليه و سلم بسهمه قال : وأجري يا رسول الله ؟ قال : ( وأجرك )

حضرت عروہ نے فرمایا: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنی بیوی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ہیں، کی دیکھ بھال کے لیے مدینہ میں پیچھے رہ گئے تھے، جبکہ وہ درد مند تھیں، قریب المرگ تھیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت سے آپ کا حصہ مقرر فرمایا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا میرے لیے اجر بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تمہارے لیے اجر بھی ہوگا۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 127

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 128

127 - حدثنا أحمد بن يزيد بن هارون المكي القزاز ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي حدثنا عباس بن أبي شملة عن موسى بن يعقوب الزمعي عن أخيه محمد بن يعقوب عن عبد الله بن رافع عن أمه قالت Y خرجت الصعبة بنت الحضرمي فسمعناها تقول لابنها طلحة بن عبيد الله : إن عثمان قد اشتد حصره فلو كلمت فيه حتى يرفه عنه قالت : و طلحة رضي الله عنه يغسل أحد شقي رأسه فلم يجبها فأدخلت يديها في كم درعها فأخرجت ثدييها وقالت : أسألك بما حملتك وأرضعتك إلا فعلت فقام ولوى شق شعر رأسه حتى عقده وهو مغسول ثم خرج حتى أتى عليا رضي الله عنه وهو جالس في جنب داره فقال طلحة رضي الله عنه ومعه أمه و أم عبد الله بن رافع : لو رفهت عن هذا فقد اشتد حصره قال : فنقر بقدح في يده ثلاث مرات ثم رفع رأسه فقال : والله ما أحب من هذا شيئا تكرهه قال : وأنشدنا أبو خليفة قال : أنشدنا العباس بن الفرج الرياشي لليلى الأخيلية : ( أبعد عثمان ترجو الخير أمته ... قد كان أفضل من يمشي على ساق ) ( خليفة الله أعطاهم وخولهم ... ما كان من ذهب حلو وأوراق ) ( فلا تكذب بوعد الله واتقه ... ولا تكونن على شيء بإشفاق ) ( ولا تقولن لشيء سوف أفعله ... قد قدر الله ما كل امرئ لاق )

حضرت عبداللہ بن رافع اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتی ہیں : صعبہ بنت حضرمی (گھر سے ) نکلی، تو ہم نے اسے سنا ، وہ اپنے بیٹے طلحہ بن عبداللہ سے کہہ رہی تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرمحاصرہ سخت ہو گیا، پس اگر تم اس میں کلام کرو یہاں تک کہ ان کی وجہ سے جو کلفت ہے وہ دور کی جائے۔ راویہ کا بیان ہے : جبکہ اپنے سر کی ایک طرف دھوتے رہے انہیں کوئی جواب نہ دیا۔ صعبہ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر اپنے سینے کو باہر نکالا اور کہا: میں نے تجھے پیٹ میں اٹھا ، تجھے دودھ پلایا مگر تو نے کیا کیا اس کے بدلے ، تجھے پوچھتی ہوں (بول) ۔ پس آپ اٹھے ، سر کے دھلے ہوئے حصے کو پھیر کر باندھا ، پھر وہاں سے نکل گئے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ ان کے گھر کی ایک طرف ہی بیٹھے تھے۔ سو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جبکہ ان کی والدہ اور عبداللہ بن رافع کی والدہ بھی ساتھ تھیں، اگر آپ اس سے کلفت دور فرمائیں تو انکا محاصرہ سخت ہو جائے، آپ کے ہاتھ میں پیالہ تھا، آپ نے اسے تین بار ٹھوکر لگائی، پھر اپنے سر کو اوپر اٹھا کر فرمایا: قسم بخدا! اس میں سے کسی شئے کو میں بھی پسند نہیں کرتا جس کو تو ناپسند کر رہاہے ۔ راوی کہتا ہے : ابو خلیفہ نے شعر کہے ہیں اور عباس بن فرض ریاشی نے بھی لیلیٰ اخیلیہ کے شعر کہے ہیں: (بحر بسیط) " اس نے حضرت عثمان کو دور کر دیا، امت جس کی امید رکھتی ہے ، تحقیق وہ زمین پر چلنے والوں سے افضل تھے، اللہ کے خلیفہ اس نے لوگوں کو عطا کیا اور بغیر احسان جتلائے سونا چاندی ان پر بے دریغ خرچ کیا، تو اللہ کے وعدہ کو مت جھٹلا اور اس سے خوف کھا اور تو کسی چیز پر ڈرنے والا نہ بن، اور تو کسی شئے کے لیے نہ کہہ : میں ابھی اسے کر لوں گا (کیونکہ) تحقیق اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں ہر وہ چیز لکھ دی ہے جس سے ہر آدمی ملنے والا ہے " ۔

خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ، فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لِابْنِهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: ← أُمِّهِ2، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← أخيه محمد بن يعقوب ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← عَبَّاسُ بْنُ أَبِي شَمْلَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← أحمد بن يزيد بن هارون المكي القزاز

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 128

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 129

128 - أنشدنا أبو خليفة قال أنشدنا أبو محمد التوزي قال أبو خليفة Y وسألت عنه الرياشي فقال : هو لحسان بن ثابت ( وتركتم غزو الدروب وجئتم ... لقتال قوم عند قبر محمد ) ( فليس هدي الصالحين هديتم ... وليس فعل العابد المتهجد )

ابو خلیفہ نے شعر پڑھے ، کہا: ابو محمد تو زی نے شعر کہے، ابو خلیفہ نے کہا: میں نے اس بارے ریاشی سے دریافت کیا، پس انہوں نے کہا: یہ حضرت حسان بن ثابت کا ہے : (مکمل بحر ہے :) " ہم نے تو پہاڑی راستوں کی جنگیں ختم کر دیں۔ اور تم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس صحابہ سے جنگ کرنے آگئے، پس یہ صالحین کی ہدایت نہیں ہے جو تمہارے پاس ہے اور تہجد گزار عابد کا یہ کام ہے "۔

أبو خليفة وسألت عنه الرياشي ← أَنْشَدَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّوزِيُّ ← أنشدنا أبو خليفة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 129

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 130

129 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا أبو هلال الراسبي عن قتادة Y أن عثمان بن عفان رضي الله عنه كان إذا جاءه من يؤذنه بالصلاة قال : مرحبا بالقائلين عدلا وبالصلاة مرحبا وأهلا

حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جب مؤذن نماز کی اطلاع دینے کےلیے آتا تو آپ فرماتے : عدل کی بات کرنےوالوں کو مرحبا( خوش آمدید) نماز کومرحبا اور خوش آمدید!

«مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا» ← قتادة أن عثمان بن عفان كان إذا جاءه من يؤذنه بالصلاة ← أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 130

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 131

130 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا سلام بن مسكين عن محمد بن سيرين قال : قالت امرأة عثمان رضي الله عنه حين أطافوا به يريدون قتله Y إن تقتلوه أو تتركوه فإنه كان يحيي الليل كله في ركعة يجمع فيها القرآن

حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ نے فرمایا: اس وقت جب وہ لوگ آپ کو شہید کرنے کے لیے آپ رضی اللہ عنہ کے مکان کے گرد چکر لگا رہے تھے: اگر تم انہیں شہید کرو یا انہیں چھوڑو، یہ تو پوری رات جاگتے ہیں اور ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ دیتے ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 131

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 132

131 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا المبارك بن فضالة قال : سمعت الحسن يقول Y أدركت عثمان رضي الله عنه وأنا يومئذ قد راهقت الحلم فسمعته يخطب وشهدته يقول : يا أيها الناس ما تنقمون علي ؟ قال : وما من يوم إلا وهم يقتسمون فيه خيرا يقول : يا معشر الناس اغدوا على عطياتكم فيغدون فيأخذونها وافرة ثم يقال : يا معشر المسلمين أغدوا على عطياتكم فيغدون فيأخذونها وافرة ثم يقال : يا معشر المسلمين أغدوا على كسوتكم فيجاء بالحلل فتقسم بينهم قال الحسن : والعدو منفي والعطيات دارة وذات البين حسن والخير كثير ما على الأرض مؤمن يخاف مؤمنا من لقي من أي الأحياء كان فهو أخوه ومودته ونصرته والفتنة أن يسل عليه سيفا

حضرت مبارک بن فضالہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور پایا، اس وقت میں قریب البلوغ تھا ، میں نے آپ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اور میں حاضر تھا، آپ فرما رہے تھے : اے لوگو! تم مجھ سے کس چیز کا انتقام لیتے ہو؟ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر دن میں لوگ خیرات حاصل کرتے۔ آپ فرماتے : اے لوگو! صبح آکر اپنے عطیات لے جانا، صبح ہوتی ، لوگ آتے تو وافر مقدار میں پاتے۔ پھر کہا جاتا: اے لوگو! صبح تمہارے لباس لینے کی باری ہے، عمدہ قسم کے لباس لائے جاتے اور ان کے درمیان تقسیم کر دئیے جاتے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دشمن ہر چیز کی نفی کرنے والا ہے حالانکہ عطیات گھومنے والے ہیں، آپس کے تعلقات خوبصورت ہیں، بھلائی کثیر ہے ، روئے زمین پر کوئی ایک مؤمن دوسرے مؤمن سے ڈرنے والا نہیں،کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھنے والا، جو بھی اس سے ملاقات کرے وہ اس کا بھائی ہے ، اس کی محبت و نصرت اس کے ساتھ ہے ۔ اور فتنہ یہ ہے کہ اس پر تلوار سونت لی جائے۔

وما من يوم إلا وهم يقتسمون فيه خيرا ← يا أيها الناس ما تنقمون علي ← يخطب وشهدته ← يومئذ قد راهقت الحلم ← أدركت عثمان ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 132

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 133

132 - حدثنا أبو خليفة ثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحجبي ثنا حزم بن أبي حزم عن أبي الأسود قال : سمعت أبا بكرة يقول Y لآن أخر من السماء فانقطع أحب إلي من أن أكون شركت في دم عثمان رضي الله عنه

حضرتت ابو الاسود فرماتے ہیں : میں نے ابوبکرہ کو فرماتے ہوئے سنا: آسمان سے گر کر اعضاء کا ٹوٹ جانا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں حضرت عثمانکے خون میں شرکت کروں۔

أبا بكرة ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 133

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 134

133 - حدثنا الفضل بن الحباب أبو خليفة حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحجبي ثنا حزم عن أبي الأسود قال : سمعت طليق بن خشاف يقول Y وفدنا إلى المدينة لننظر فيم قتل عثمان ؟ فلما قدمنا مر منا بعض إلى علي وبعض إلى الحسين بن علي رضي الله عنهما وبعض إلى أمهات المؤمنين رضي الله عنهن فانطلقت حتى أتيت عائشة فسلمت عليها فردت السلام فقالت : ومن الرجل ؟ قلت : من أهل البصرة فقالت : من أي أهل البصرة ؟ قلت : من بكر بن وائل قالت : من أي بكر بن وائل ؟ قلت : من بني قيس بن ثعلبة قالت : أمن أهل فلان ؟ فقلت لها : يا أم المؤمنين فيم قتل عثمان أمير المؤمنين رضي الله عنه ؟ قالت : قتل والله مظلوما لعن الله من قتلته أقاد الله ابن أبي بكر به وساق الله إلى أعين بني تميم هوانا في بيته واهراق الله دماء بني بديل على ضلالة وساق الله إلى الأشتر سهما من سهامه فوالله ما من القوم رجل إلا أصابته دعوتها

حضرت ابو الا سود فرماتےہیں : میں نے طلیق بن خشاف کو کہتے ہوئے سنا:ہم بصورت وفد مدینے آئےیہ دیکھنے کے لیے کہ کس چیز کی پاداش میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، پس جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم میں سے کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ، کچھ امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے اور کچھ امہات المؤمنین کی طرف سے ہو کر گزرے ، میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے ان کی خدمت میں سلام پیش کیا، انہوں نے جواب لوٹایا اور فرمایا : کون ادمی ہے ؟ میں نے عرض کی: ایک بصری ہوں ، فرمایا: بصرہ کے کس قبیلے سے؟ عرض کی : بکر بن وائل ، فرمایا: بنی بکر کی کس شاخ سے؟ عرض کی قیس بن ثعلبہ فرمایا: کیا تو فلاں لوگوں سے ہے ؟ میں نے ان سے عرض کی: اے مؤمنوں کی ماں! کس بات میں امیر المؤمنین حضرت عثمان کی شہادت ہوئی ؟ فرمایا: قسم ہے اللہ کی ! انتہائی مظلومیت کی حالت میں انہیں شہید کیا گیا، آپ رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر اللہ لعنت کرے ! ابن ابو بکر سے اللہ اس کا قصاص لے ، اللہ بنی تمیم کی آنکھوں کی طرف اپنے گھر میں ذلت کی چکی چلائے، اللہ بنی بدیل کا خون گمراہی پر بہادے اور اشتر کی طرف اپنے تیروں میں سے ایک تیر بھیجے۔ قسم بخدا! اس گروہ میں سے ایک بھی ایسا آدمی نہ تھا جس کو آپ رضی اللہ عنہ کی بد دعا نہ لگی ہو۔

طليق بن خشاف ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← حزم ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← الفضل بن الحباب أبو خليفة

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 134

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 135

134 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا الفضل بن زياد ثنا ابن المبارك عن ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب Y أن عامة الركب الذين ساروا إلى عثمان جنوا

بریدہ بن ابو حبیب سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کی غرض سے جو قافلے چلے، ان میں سے اکثر مرض جنون کا شکار ہوئے۔

يزيد بن أبي حبيب أن عامة الركب الذين ساروا إلى عثمان جنوا ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 135

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 136

135 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا عاصم بن أبي النجود عن شقيق بن سلمة قال Y لقي عبد الرحمن بن عوف الوليد بن عقبة فقال : ما لي أراك قد جفوت يا أمير المؤمنين عثمان رضي الله عنه ؟ فقال عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه : أبلغه أني لم أتخلف عن بدر فخبر بذلك عثمان رضي الله عنه فقال : أما قوله أني لم أتخلف عن بدر فإني كنت أمرض رقية بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى ماتت ولقد ضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم بسهم ومن ضرب له رسول الله صلى الله عليه و سلم بسهم فقد شهد

حضرت شقیق بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف الولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے ملے،آپ نے فرمایا: مجھے کیا ہے کہ آپ حضرت امیرالمؤمنین عثمان سے بے وفائی کرتے ہیں؟ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے فرمایا: میں نے ان کو بتایا کہ میں بدر کی جنگ میں پیچھے نہیں رہا تھا، یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: میں بدر کی جنگ میں پیچھے نہیں رہا، میں ان دنوں حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس تھا کیونکہ آپ بیمار تھیں، آپ کا وصال ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے لیے حصہ رکھا تھا، جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حصہ رکھا، وہ شریک ہوا ہے۔

أما قوله أني لم أتخلف ← بدر فخبر بذلك عثمان ← عبد الرحمن بن عوف أبلغه أني لم أتخلف ← ما لي أراك قد جفوت يا أمير المؤمنين عثمان ← لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 136

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter