المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 113
112 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا حماد بن زيد حدثنا مجالد بن سعيد عن عمير بن زودي قال Y خطب علي رضي الله عنه الناس فقال : يا أيها الناس إنه والله لئن لم يدخل النار إلا من قتل عثمان لا أدخلها ولئن لم يدخل الجنة إلا من قتل عثمان لا أدخلها قال : فلما نزل قيل له تكلمت بكلمة فرقت عليك بها أصحابك فخطبهم فقال : يا أيها الناس إلا أن الله عزوجل قتل عثمان وأنا معه قال حماد وحدثنا حبيب بن الشهيد عن محمد بن سيرين قال كلمة قرشية لها وجهان
حضرت عمیر بن زودی فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگوں ! اللہ کی قسم ہے ! اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل دوزخ میں داخل ہوا تو میں اس دوزخ میں داخل نہیں ہوں گا۔ اور اگر حضرت عثمان کے قاتلین میں سے کوئی (خدانخواستہ) جنت میں داخل ہو گیا تو میں ایسی جنت میں داخل نہیں ہوں گا۔ راوی کا بیان ہے : جب آپ منبر سے اترے تو آپ سے عرض کی گئی: آپ نے اپنے ساتھیوں کو اپنےکلام سے دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، آپ نے پھر خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! خبردار ! بے شک اللہ نے حضرت عثمان کو شہادت عطا فرمائی ہے اور میں بھی ان کے ساتھ ( شہادت پانے والا) ہوں ۔ حضرت حماد کا قول ہے : حبیب بن شہید نے ہم سے حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کیا ، فرماتے ہیں: یہ کلام قریشیوں والا ہے جس کی دو صورتیں ( دو معنی) ہیں ۔ حضرت ابوالقاسم کا قول ہے : یعنی گویا اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت تو میں بھی ان کے ساتھ شہید ہوں۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← خَطَبَ عَلِيٌّ النَّاسَ ← عُمَيْر بن زودي، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 113
