المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 39
39 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو المغيرة ثنا حريز بن عثمان عن نعيم بن نمحة قال Y كان في خطبة أبي بكر رضي الله عنه : أما تعلمون أنكم تغدون وتروحون لأجل معلوم فمن استطاع أن ينقضي الأجل وهو في عمل الله عز و جل فليفعل ولن تنالوا ذلك إلا بالله عزوجل إن قوما جعلوا آجالهم لغيرهم فنهاكم الله أن تكونوا أمثالهم { ولا تكونوا كالذين نسوا الله فأنساهم أنفسهم } أين من تعرفون من إخوانكم ؟ قدموا ما قدموا في أيام سلفهم وحلوا فيه بالشقوة والسعادة أين الجبارون الأولون الذين بنوا المدائن وحففوها بالحوائط ؟ قد صاروا تحت الصخر والآبار هذا كتاب الله عز و جل لاتفنى عجائبه فاستوصوا به منه ليوم ظلمة وائتضحوا بسائه وبيانه إن الله عز و جل أثنى على زكريا وأهل بيته فقال : { كانوا يسارعون في الخيرات ويدعوننا رغبا ورهبا وكانوا لنا خاشعين } لا خير في قول لا يراد به وجه الله ولا خير في مال لا ينفق في سبيل الله ولا خير فيمن يغلب جهله حلمه ولا خير فيمن يخاف في الله لومة لائم
حضرت نعیم بن نمحہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تم صبح و شام ایک مقررہ مدت تک کرو گے، جو طاقت رکھتا ہو اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتے ہوئے اس کو موت آئے، وہ کرے ، یہ توفیق اللہ کی طرف سے ہے ، کچھ لوگوں نے اپنی امیدیں اللہ کے علاوہ کے لیے بنائیں ، اللہ عزوجل نے ان جیسا ہونے سے منع کیا۔ فرمایا: ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اللہ کو بھلایا، اللہ نے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا، کہاں ہیں وہ لوگ جن کو جانتے تھے؟ انہوں نے جو آگے بھیجا تھا، انہوں نے بدبختی اور نیک بختی اپنے لیے جائز کردی۔ کہاں ہیں تکبر کرنے والے جو بڑے شہروں میں رہتے تھے، جن کے باغات تھے؟ باغ ، پتھر اور دریا ہو گئے، یہ اللہ کے علاوہ اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے، اس کے ذریعے نصیحت حاصل کرو، اندھیرے والے دن کے لیے ، زبان و دل سے اللہ کی تعریف کرو، کیونکہ اللہ عزوجل نے حضرت زکریا علیہ السلام کی تعریف کی اور ان کے گھر والوں کی ، وہ نیکی میں جلدی کرتے تھے، وہ خوشی میں غمی میں ہم کو یاد کرتے تھے اور ہم سے ڈرتے تھے، اس قول میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو، اس مال میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو، اس مال میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے اور اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں جہالت ، بردباری پر غالب ہو، اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرا جائے۔
نُعَيْمِ بْنِ نَمْحَةَ، ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 39
