Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 38

38 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا هارون بن موسى الفروي ثنا موسى بن عبد الله بن حسن بن حسن بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده الحسن بن علي رضي الله عنه قال Y لما احتضر أبو بكر رضي الله عنه قال : يا عائشة أنظري اللقحة التي كنا نشرب من لبنها والجفنة التي كنا نصطبح فيها والقطيفة التي كنا نلبسها فإنا كنا ننتفع بذلك حين كنا في أمر المسلمين فإذا مت فاردديه إلى عمر فلما مات أبو بكر رضي الله عنه أرسلت به إلى عمر رضي الله عنه فقال عمر رضي الله عنه : رضي الله عنهاك يا أبا بكر لقد أتعبت من جاء بعدك

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر کے وصال کا وقت آیا تو آپ نے فرمایا: اے عائشہ! وہ برتن دیکھو جس میں ہم دودھ پیتے تھے، وہ برتن دیکھو جس میں ہم آٹا گوندھتے تھے اور وہ دھاکہ جس سے کپڑے سیتےتھے، جب تک ہم مسلمانوں کے امیر رہے ہم اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ، جب میں مر جاؤں تو یہ عمر کو دے دینا، جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو میں نے حضرت عمر کو یہ سامان بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو بکر جو ابھی آپ کے بعد آئے گا، آپ نے اس کو مشکل میں ڈال دیا۔

جده الحسن بن علي ← أَبِيهِ ← موسى بن عبد الله بن حسن بن حسن بن علي بن أبي طالب ← هَارُونُ بْنُ مُوسَی الْفَرَوِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Hadith 38

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 39

39 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبو المغيرة ثنا حريز بن عثمان عن نعيم بن نمحة قال Y كان في خطبة أبي بكر رضي الله عنه : أما تعلمون أنكم تغدون وتروحون لأجل معلوم فمن استطاع أن ينقضي الأجل وهو في عمل الله عز و جل فليفعل ولن تنالوا ذلك إلا بالله عزوجل إن قوما جعلوا آجالهم لغيرهم فنهاكم الله أن تكونوا أمثالهم { ولا تكونوا كالذين نسوا الله فأنساهم أنفسهم } أين من تعرفون من إخوانكم ؟ قدموا ما قدموا في أيام سلفهم وحلوا فيه بالشقوة والسعادة أين الجبارون الأولون الذين بنوا المدائن وحففوها بالحوائط ؟ قد صاروا تحت الصخر والآبار هذا كتاب الله عز و جل لاتفنى عجائبه فاستوصوا به منه ليوم ظلمة وائتضحوا بسائه وبيانه إن الله عز و جل أثنى على زكريا وأهل بيته فقال : { كانوا يسارعون في الخيرات ويدعوننا رغبا ورهبا وكانوا لنا خاشعين } لا خير في قول لا يراد به وجه الله ولا خير في مال لا ينفق في سبيل الله ولا خير فيمن يغلب جهله حلمه ولا خير فيمن يخاف في الله لومة لائم

حضرت نعیم بن نمحہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تم صبح و شام ایک مقررہ مدت تک کرو گے، جو طاقت رکھتا ہو اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتے ہوئے اس کو موت آئے، وہ کرے ، یہ توفیق اللہ کی طرف سے ہے ، کچھ لوگوں نے اپنی امیدیں اللہ کے علاوہ کے لیے بنائیں ، اللہ عزوجل نے ان جیسا ہونے سے منع کیا۔ فرمایا: ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اللہ کو بھلایا، اللہ نے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا، کہاں ہیں وہ لوگ جن کو جانتے تھے؟ انہوں نے جو آگے بھیجا تھا، انہوں نے بدبختی اور نیک بختی اپنے لیے جائز کردی۔ کہاں ہیں تکبر کرنے والے جو بڑے شہروں میں رہتے تھے، جن کے باغات تھے؟ باغ ، پتھر اور دریا ہو گئے، یہ اللہ کے علاوہ اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے، اس کے ذریعے نصیحت حاصل کرو، اندھیرے والے دن کے لیے ، زبان و دل سے اللہ کی تعریف کرو، کیونکہ اللہ عزوجل نے حضرت زکریا علیہ السلام کی تعریف کی اور ان کے گھر والوں کی ، وہ نیکی میں جلدی کرتے تھے، وہ خوشی میں غمی میں ہم کو یاد کرتے تھے اور ہم سے ڈرتے تھے، اس قول میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو، اس مال میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو، اس مال میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے اور اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں جہالت ، بردباری پر غالب ہو، اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرا جائے۔

نُعَيْمِ بْنِ نَمْحَةَ، ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Hadith 39

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 40

40 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت Y توفي أبو بكر رضي الله عنه ليلة الثلاثاء ودفن ليلا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا بدھ کے دن آپ کو رات کو دفن کیا گیا۔

توفي أبو بكر ليلة الثلاثاء ودفن ليلا ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 40

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 41

41 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا هشام بن عمار ثنا الهيثم بن عمران قالت سمعت جدي يقول Y توفي أبو بكر رضي الله عنه وبه طرف من السل وولي سنتين ونصفا

حضرت ہیثم بن عمان فرماتے ہیں: میں نے اپنے دادا کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال 63 سال کی عمر میں ہوا، آپ اڑھائی سال خلافت پر متمکن رہے۔

توفي أبو بكر وبه طرف من السل وولي سنتين ونصفا ← جَدِّي، ← الْهَيْثَمُ بْنُ عِمْرَانَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Hadith 41

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 42

42 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج ثنا يحيى بن بكير قال Y استخلف أبو بكر رضي الله عنه في اليوم الذي توفي فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم وتوفي أبو بكر رضي الله عنه في جمادى الآخرة سننة ثلاث عشرة وسنه يوم توفي كما ذكرت عائشة رضي الله عنها سن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو ابن ثلاث وستين

حضرت یحییٰ بن بکیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال 13 جمادی الاخریٰ کو، جس دن آپ کا وصال ہوا اس دن آپ کی عمر وہی تھی جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کی ہے ، جتنی عمر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی یعنی 63 سال ، اتنی عمر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی۔

يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرج

Hadith 42

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ ومما أسند أبو بكر الصديق رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 43

43 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج المصري ثنا سعيد بن عفير حدثني علوان بن داود البجلي عن حميد بن عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن صالح بن كيسان عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه قال Y دخلت على أبي بكر رضي الله عنه أعوده في مرضه الذي توفي فيه فسلمت عليه وسألته كيف أصبحت ؟ فاستوى جالسا فقلت : أصبحت بحمد الله بارئا فقال : أما إني على ما ترى وجع وجعلتم لي شغلا مع وجعي جعلت لكم عهدا من بعدي واخترت لكم خيركم في نفسي فكلكم ورم لذلك أنفه رجاء أن يكون الأمر له ورأيت الدنيا قد أقبلت ولما تقبل وهي جائية وستنجدون بيوتكم بسور الحرير ونضائد الديباج وتألمون ضجائع الصوف الأزدي كأن أحدكم على حسك السعدان ووالله لأن يقدم أحدكم فيضرب عنقه في غير حد خير له من أن يسيح في غمرة الدنيا ثم قال : أما إني لا آسي على شيء إلا على ثلاث فعلتهن وددت أني لم أفعلهن وثلاث لم أفعلهن وددت أني فعلتهن وثلاث وددت أني سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عنهن فأما الثلاث اللاتي وددت أني لم أفعلهن فوددت أني لم أكن كشفت بيت فاطمة وتركته وأن أغلق علي الحرب ووددت أني يوم سقيفة بني ساعدة كنت قذفت الأمر في عنق أحد الرجلين أبي عبيدة أو عمر فكان أمير المؤمنين وكنت وزيرا ووددت أني حيث كنت وجهت خالد بن الوليد إلى أهل الردة أقمت بذي القصة فإن ظفر المسلمون ظفروا وإلا كنت ردءا أو مددا وأما اللاتي وددت أني فعلتها فوددت أني يوم أتيت بالأشعث أسيرا ضربت عنقه فإنه يخيل إلي أنه لا يكون شر الإطار إليه ووددت أني يوم أتيت بالفجاة السلمى لم أكن أحرقه وقتلته سريحا أو أطلقته نجيحا ووددت أني حيث وجهت خالد بن الوليد إلى الشام وجهت عمر إلى العراق فأكون قد بسطت يدي يميني وشمالي في سبيل الله عز و جل وأما الثلاث اللاتي وددت أني سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عنهن فوددت أني كنت سألته هل للأنصار في هذا الأمر سبب ؟ ووددت اني سألته عن العمة وبنت الأخ فإن في نفسي منهما حاجة

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن بن حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتےہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کی عیادت کرنے کے لیے ، جس مرض میں آپ نے وصال پایا۔ میں نے آپ کو سلام کیا، میں نے پوچھا: آپ نے صبح کیسے کی ہے ؟ آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، میں نے عرض کی: آپ نے اللہ کے فضل سے اچھی صبح کی ہے ۔ آپ نے فرمایا: آپ میری بیماری دیکھ رہے ہیں! جب کہ تم نے میری بیماری کے باوجود مجھے کام دے دیا ہے ، میں نے اپنے بعد تمہارے لیے ایک عہد بنایا ہے اور میں نے اپنے خیال کے مطابق تم سے بہتر کو تمہارے لیے چنا ہے ، اس وجہ سے کہ تم میں سے ہر کوئی اس کے لیے غصہ کرتا ہے ، تم میں سے ہر کوئی امید رکھے گا کہ ولی الا مر وہ بنے۔ میں نے دنیا کو دیکھا ، وہ آئی ، لیکن ابھی مکمل نہیں لیکن وہ آنے والی ہے ، تم عنقریب اپنے گھروں کو ریشم کے پردوں کے ساتھ اور دیباج کے تکیوں کے ساتھ سجاؤ گے، نرم بستر رکھو گے، گویا کہ تم میں سے کوئی ایک بہت بے چین ہے ، قسم بخدا! یہ کہ تم سے کوئی ایک آگے بڑھے اور بغیر حد کے اس کی گردن اتار دی جائے، اس کے لیے یہ بہتر ہوگا اس سے کہ وہ دنیا کی ریل پیل میں قدم دھرے ، مجھے کسی چیز پر افسوس نہیں مگر تین کام جو میں نے کیے ، مجھے پسند یہ تھا کہ وہ کام نہ کروں اور تین کام جو میں نہ کر سکا ، میری خواہش تھی کہ میں انہیں ضرور کر گزروں اور تین وہ کام جن کے بارےمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنا چاہتا تھا۔ پس وہ تین کام جو ذاتی طور پر نہیں کرنا چاہتا تھا، میری شدید خواہش تھی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر نہ کھلے، میں اسے چھوڑ دوں اور میں اپنے اوپر جنگ کا دروازہ بند کردوں، میری خواہش تھی کہ ثقیفہ بنو ساعدہ کے دن، ابوعبیدہ یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کی گردن میں مسلمانوں کا معاملہ ڈال دوں اور وہ ان کا امیر ہو اور میری حیثیت ایک وزیر کی ہو اور میری خواہش تھی کہ حضرت خالد بن ولید کو جہاں میں مرتدوں کے خلاف لگایا، میں ذو قصہ کے ساتھ کھڑا کردو۔ پس اگر مسلمان کامیاب ہو جائیں تو کامیاب ہو جائیں ، ورنہ میں معاون و مددگار بنوں۔ وہ چیزیں جو میں کرنا چاہتا تھا، میں چاہتا تھا کہ جس دن اشعث کو قید کرکے میرے پاس لایا گیا، اس دن گردن اڑا دوں کیونکہ میرا خیال ہے کہ وہ برے لوگوں سے ہے۔ میں چاہتا تھا کہ جس دن فجاۃ سلمی میرے پاس لایا گیا ، میں اسے جلانے کی بجائے اسے کھلے بندوں قتل کردوں یا آزاد کردوں ۔ میں چاہتا تھا کہ جہاں میں نے خالد بن ولید کو شام کی طرف بھیجا تھا، حضرت عمر کو عراق کی طرف بھیجوں ، پس میرا حال یہ ہو کہ میرا دایاں اور بایاں دونوں ہاتھ اللہ کی راہ میں پھیلے ہوئے ہوں اور وہ تین کام جو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنا نا پسند کرتا تھا، مجھے پسند تھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھوں ، اس معاملے میں کون ہوتا کہ اس کی اہلیت رکھنے والے جھگڑا نہ کریں، مجھے پسند تھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کروں کہ اس امر میں انصار کے لیے کیا سبب ہے ، مجھے پسند تھا کہ میں چچی اور بھائی کی بہن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو ( کہ ان سے نکاح کا کیا حکم ہے ) کیونکہ دونوں سے مجھے ذاتی ضرورت تھی۔

أَبِيهِ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← عُلْوَانُ بْنُ دَاوُدَ الْبَجَلِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ،

Hadith 43

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ ومما أسند أبو بكر الصديق رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 44

44 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل النهدي ثنا عبد الرحمن بن حميد الرواسبي ثنا سليمان الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن عمير مولى ابن عباس عن ابن عباس رضي الله عنهما قال Y اختصم علي و العباس إلى أبي بكر رضي الله عنهم في ميراث النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما كنت لأحوله عن موضعه الذي وضعه رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کا مسئلہ لے کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس جگہ سے نہیں بدل سکتا جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّوَاسِبِيُّ ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 44

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ ومما أسند أبو بكر الصديق رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 45

45 - حدثنا العباس بن الفضل الاسفاطي ثنا عبد الجبار بن سعيد المساحقي ثنا يحيى بن محمد بن عباد بن هانيء الشجري ثنا هشام بن سعد عن سعيد بن أبي هلال عن أبي قبيل عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال Y كتب أبو بكر رضي الله عنه إلى عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في الأنصار : ( اقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم )

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص کی طرف خط لکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے متعلق فرمایا: ان کی نیکیاں قبول کرو اور ان کی برائیوں سے درگزر کرو۔

أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي قَبِيلٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← يحيى بن محمد بن عباد بن هانيء الشجري ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ الْمُسَاحِقِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Hadith 45

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ ومما أسند أبو بكر الصديق رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 46

46 - حدثنا العباس بن الفضل الاسفاطي ثنا عبد الجبار بن سعيد المساحقي حدثنا يحيى بن محمد الشجري ثنا هشام بن سعد عن سعيد بن أبي هلال عن أبي قبيل عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال Y كتب أبو بكر رضي الله عنه إلى عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم شاور في أمر الحرب فعليك به

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص کی طرف خط لکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ کے معاملہ میں مشورہ لیتےتھے، آپ بھی مشورہ لیں۔

أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي قَبِيلٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← يحيى بن محمد الشجري ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ الْمُسَاحِقِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Hadith 46

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ ومما أسند أبو بكر الصديق رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 47

47 - حدثنا أبو زيد الحوطي ثنا أبو اليمان ثنا عطاف بن خالد حدثني طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه قال سمعت أبي قال : سمعت أبا بكر الصديق رضي الله عنه يقول Y قلت : يا رسول الله أنعمل على أمر قد فرغ منه أم على أمر مؤتنف ؟ قال : ( بل على أمر قد فرغ منه ) قلت : ففيم العمل يا رسول الله ؟ قال : ( كل ميسر لما خلق له )

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم ایسا کام کریں جو تقدیر میں لکھا جاچکا ہے ، یا نیا کام کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کرو جو لکھا گیا ہے ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس میں کیا عمل کرنا ہے جو لکھا جا چکا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے لیے وہ انسان پیدا کیا گیا ہے ، وہ کام اس کے لیے آسان کر دئیے جائیں گے۔

قُلْتُ ← أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، ← أَبِي ← أَبِيهِ ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ،

Hadith 47

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ 2 - نسبة عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 48

48 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا يعقوب بن عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله عن موسى بن عقبة عن ابن شهاب قال Y قال عمر بن عبد العزيز لأبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة : من أول من كتب من عبد الله أمير المؤمنين ؟ فقال : أخبرتني الشفاء بنت عبد الله وكانت من المهاجرات الأول : أن لبيد بن ربيعة و عدي بن حاتم قدما المدينة وأتيا المسجد فوجدا عمرو بن العاص فقالا : يا ابن العاص استأذن لنا على أمير المؤمنين فقال : أنتما والله أصبتما اسمه هو الأمير ونحن المؤمنون فدخل عمرو على عمر فقال : السلام عليك يا أمير المؤمنين فقال له عمر : ما هذا ؟ فقال : أنت الأمير ونحن المؤمنون فجرى الكتاب من يومئذ

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن سلیمان بن حثمہ کےلیے کہا: سب سے پہلے کس نے لکھا:" من عبداللہ امیر المومنین؟ " انہوں نے جواب دیا: شفاء بنت عبداللہ جو اوّلین مہاجرات میں سے ہیں ، نے مجھے بتایا کہ لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم دونوں مدینہ آئے، دونوںمسجد میں آئے، وہاں دونوں نے حضرت عمرو بن عاص کو پایا، دونوں نے کہا: اے اب عاص ! حضرت امیر المومنین سے ہمارے لیے اجازت مانگیں! حضرت عمرو نے فرمایا: تم نے ان کا نام درست رکھا ہے ، وہ امیر اور ایمان والے ہیں ۔ حضرت عمرو، حضرت عمر کے پاس آئے، عرض کی: اے امیر المومنین! آپ پر سلامتی ہو! حضرت عمر نے ان کو فرمایا: یہ کیا ہے ؟ عرض کی آپ امیر ہیں اور ہم ایمان والے ہیں، اس دن سے خط میں یہ لکھتے ہیں۔

كَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، ← أَخْبَرَتْنِي الشِّفَاءُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ ← مِنْ عَبْدِ اللَّهِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أبو الزنباع روح بن الفرج

Hadith 48

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ 2 - نسبة عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 49

49 - حدثنا أحمد بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام ثنا زياد بن عبد الله عن ابن إسحاق قال Y عمر بن الخطاب بن نفيل بن عبد العزى بن رباح بن عبد الله بن قرط بن رزاح بن عدي بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك يكنى أبا حفص رضي الله عنه وأمه حنتمة بنت هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم و أم حنتمة الشفاء بنت عبد قيس بن عدي بن سعيد بن سهم بن عمرو بن هصيص بن كعب بن لؤي

حضرت ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ (حضرت عمر کا نسب اس طرح ہے : ) عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن غالب بن بہر بن مالک ، آپ کی کنیت ابو حفص ہے ، آپ کی والدہ حنتمہ بنت ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم ہے ، آپ کی نانی کا نام شفاء بنت عبد قیس بن عدی بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لؤی ہے ۔

ابْنِ إِسْحَاقَ، ← زياد بن عبد الله ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Hadith 49

chevron_left Previous
12345…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter