المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ وما أسند طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه · حديث 220
219 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا سليمان بن أيوب حدثني أبي عن جدي عن موسى بن طلحة عن أبيه قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو في جماعة من أصحابه وفي يده سفرجلة يقلبها فلما جلست إليه دحى بها نحوي ثم قال : ( دونكها أبا محمد فإنها تشد القلب وتطيب النفس وتذهب بطخاوة الصدر )
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ اپنے صحابہ کی جماعت میں تھے، آپ کے دست مبارک میں سبزی بہی دانہ تھی، اس کو پلٹ رہے تھے، جب میں آپ کے پاس بیٹھا تو آپ نے اس کو میری طرف کرکے فرمایا: ابو محمد! اسے لے لو! کیونکہ دل کو مضبوط کرتی ہے، جان کو راحت دیتی ہے اور سینے کی تکلیف کو دور کرتی ہے ۔
أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 220
