المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن عثمان ووفاته رضي الله عنه · حديث 110
109 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الحكم ثنا عبد الملك الماجشون قال سمعت مالكا يقول Y قتل عثمان رضي الله عنه فأقام مطروحا على كناسة بني فلان ثلاثا فأتاه اثنا عشر رجلا فيهم جدي مالك بن أبي عامر و حويطب بن عبد العزى و حكيم بن حزام و عبد الله بن الزبير و عائشة بنت عثمان معهم مصباح في حق فحملوه على باب وإن رأسه يقول على الباب طق طق حتى أتوا به البقيع فاختلفوا في الصلاة عليه فصلى عليه حكيم بن حزام أو حويطب بن عبد العزى شك عبد الرحمن ثم أرادوا دفنه فقام رجل من بني مازن فقال : والله لئن دفنتموه مع المسلمين لأخبرن الناس فحملهوه حتى أتوا به إلى حش كوكب فلما دلوه فيقبره صاحت عائشة بنت عثمان فقال لها ابن الزبير : اسكتي فوالله لئن عدت لأضربن الذي فيه عيناك فلما دفنوه وسووا عليه التراب قال لها ابن الزبير : صيحي ما بدا لك أن تصيحي قال مالك : وكان عثمان بن عفان رضي الله عنه قبل ذلك يمر بحش كوكب فيقول : ليدفنن ههنا رجل صالح قال أبو القاسم : الحش البستان
حضرت مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، آپ کو کناسہ بنی فلان کے پاس تین دن تک چھوڑے رکھا، آپ کے پاس بارہ آدمی آئے، ان میں میرے دادا مالک بن ابو عامر اور حویطب بن عبدالعزیٰ ، حکیم بن حزام، عبداللہ بن زبیر، عائشہ بنت عثمان تھے۔ ان کے پاس چراغ تھا، آپ کو دروازے پر لایا، آپ کے سر سے آواز آ رہی تھی ، دروازے سے ٹک ٹک کی آواز آ رہی تھی، آپ کو جنت البقیع میں لایا گیا، آپ کی نماز جنازہ پڑھانے میں اختلاف ہوا، آپ کاجنازہ حکیم بن خزام یا حویطب بن عبدالعزیٰ نےعبدالرحمٰن کو شک ہے ، پڑھایا پھر آپ کو دفن کرنے کا ارادہ کیا۔ بنی مازن سے ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ان کو مسلمانوں کے ساتھ دفن کرو گے تو میں لوگوں کو بتاؤں گا۔ آپ کا جنازہ اٹھایا ، اس کو باغ میں لایا گیا، جب قبر کے اندر رکھنے لگے تو حضرت عائشہ بنت عثمان رونے لگیں۔ حضرت ابن زبیر نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ! اگر دوبارہ آپ روئیں تو میں آپ کی آنکھ پر ماروں گا۔ جب آپ کو دفن کیا گیا، مٹی برابر کی گئی تو حضرت ابن زبیر نے عائشہ بنت عثمان سے فرمایا: جتنا رونا ہے رو لو! حضرت مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان اس سے پہلے اس باغ کے پاس سے گزرے تھے، فرمایا تھا: یہاں نیک آدمی کو دفن کیا جائے۔ امام طبرانی فرماتے ہیں : الحش سے مراد باغ ہے۔
مَالِکًا ← عبد الملك الماجشون ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 110
