عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ نَوْعٌ آخَرُ · حديث 668
667 - أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، فَقَالَ: " أَجَعَلْتَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَدْلًا، قُلْ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ "
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کرتے ہیں غزوہ حنین کے روز ( جب مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانی پڑی) اور وہ پیٹھ پھیر کرچلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بارہ انصاری صحابہ کے ساتھ ایک کنارہ پر موجود تھے ان میں طحہ بن عبیدہ اللہ بھی تھے ۔ مشرکین نے ان حضرات کو گھیرلیا ( کہ چند آدمی ہیں انہیں مارلو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا اب ہماری طرف سے کون لڑے گا ( اور کون ہمیں بچائے گا) طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ٹھیرے رہو۔ پھر ایک انصاری نے کہا ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مقابلہ کرو ۔ پھر وہ لڑے اور شہید ہو گئے ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کون لڑے گا؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نےکہا میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا تم ٹھیرے رہو ۔ پھر ایک انصاری نے عرض کیا میں لڑوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی انہوں نے دشمن کا مقاملہ کیا اور شہید ہوئے پھر برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح فرماتے رہے اور ایک ایک انصاری مقابلے کے لیے میدان میں آتے رہے اور جام شہادت نوش فرماتے رہے آخر میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب کون مقابلہ کرے گا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں لڑوں گا پھر طلحہ بھی پہلے گیارہ صحابی رضی اللہ عنہ کی طرح لڑے آخر ان کے ہاتھ پر ایک ضرب لگی اور انگلیاں کٹ گئیں انہوں نے حس( یہ کلمہ شدید درد کے وقت کہتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہتے ( جب تمہیں زخم لگا تھا ) تو فرشتے تمہیں اُٹھا لیتے اور لوگ دیکھتے رہتے پھر اللہ عزوجل نے مشرکین کو لوٹا دیا۔
مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْت ← رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← الأَجْلَحِ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › another type · Hadith 668
