عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ الْكُنْيَةِ بِالْأَلْوَانِ · حديث 404
403 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدِ عَنِ ابن أَبِي الْوَرْدِ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَحْمَرَ، فَقَالَ: «أَنْتَ أَبُو الْوَرْدِ» قَالَ جُبَارَةُ: مَازَحَهُ
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ کے درمیان کچھ باتیں ہوئیں تو علیؓ ( ناراض ہو کر ) مسجد میں جا کر مٹی پر پڑ گئے، نبی ﷺ نے فاطمہ ؓ سے دریافت کیا کہ علی ؓ کہاں ہیں فاطمہ الزہرٰیؓ نے کہا میرے اور انکے درمیان کچھ ناراضگی ہوئی اس لئے وہ غصے میں چلے گئے، رسول اللہ ﷺ ان کی تلاش میں نکلے تو انھیں مٹی پر سویا ہوا پایا آپ ﷺ نے انھیں جگایا اور انکی کمر سے مٹی صاف کرنے لگے ، جو ( چادر ہٹنے کی وجہ سے لگ گئی تھی) پھر آپ نے فرمایا تم ابو تراب ہو یعنی مٹی والے ( آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ کنیت رکھی اور انھیں یہ کنیت بہت پسند تھی)۔
جُبَارَةُ: مَازَحَهُ ← رَأَى النَّبِيُّ رَجُلًا أَحْمَرَ، فَقَالَ: «أَنْتَ أَبُو الْوَرْدِ» ← أَبِيهِ ← ابن أبي الورد ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ← أَبُو يَعْلَى
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › The door of the noun in color · Hadith 404
