عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ · حديث 499
498 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ قَالَ بِإِصْبَعِهِ - وَمَدَّ شُعْبَةُ إِصْبَعَهُ - قَالَ [ص:447]: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا بِنُصْحِكَ، وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ، اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ»
حارث رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ علی ابن طالب رضی اللہ عنہ محل کے دروازے سے نکلے اور سواری کے پائیدان پر اپنا قدم رکھا تو بسم اللہ کہا پھر جب سواری پر آرام کے ساتھ بیٹھ گئے تو یہ دعا پڑھی:۔ دعا:۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ اعزاز بخشا کہ ہم زمین اور سمندر مین سفر کرتے ہیں اور ہمیں پاکیزہ رزق عنایت فرمایا اور اپنی بہت ساری عنایت فرمایا اور اپنی بہت ساری مخلوق پر ہمیں فضیلت اور شرف بخشا پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس سواری کو فرمابنردار کر دیا اور ہم اس کی طاقت رکھنے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور پھر جانے والے ہیں پھر کہا پروردگار ! مجھ کو بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب بندہ کہتا ہے میرے رب مجھ کو بخش سے کیونکہ تیرے سواکوئی بخشنے والا نہیں ہے ۔
بِإِصْبَعِهِ وَمَدَّ شُعْبَةُ إِصْبَعَهُ ← کَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا سَافَرَ فَرَکِبَ رَاحِلَتَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُكْرَمٍ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › The door of what he says when riding · Hadith 499
