عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا غَلَبَهُ أَمْرٌ · حديث 349
349 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكَ، فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ صَنَعَ، وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ، فَإِنَّ اللَّوَّ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ "
عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے دو آدمیوں کے مقدمے کا فیصلہ کیا تو جس کے حق میں فیصلہ نہیں ہوا اس نے واپس جاتے ہوئے کہا مجھ کو تو بس اللہ ہی کافی ہے وہ بہتر کام بنانے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو میرے پاس لاؤ، پھر آپﷺ نے فرمایا تم نے ابھی کیا کہا ہے انھوں نے فرمایا میں نے یہ کہا ہے کہ بس اللہ ہی مجھے کافی ہے اور وہ بہتر کام بنانے والا ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی آدمی کو مایوسی پر ملامت فرماتا ہے تمھیں سمجھداری اور عقلمندی سے کام لینا چاہیئے پھر اگر تم کسی وجہ سے مغلوب ہو جاؤ ( ہار جاؤ ) تو پھر کہو اللہ ہی مجھے کافی ہے اور وہی میرا اچھا کار ساز ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← خالد بن مرداس ← أَبُو يَعْلَى
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter What He Say When Something Overcomes · Hadith 349
