عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يُعَوِّذُ بِهِ الْقُوبَةَ وَالْبَثْرَةَ · حديث 636
635 - أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ الزُّرْقَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مَرْيَمَ بِنْتِ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أُصْبُعِي بَثْرَةٌ، فَقَالَ: «عِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ؟» ، فَوَضَعَهَا عَلَيْهَا، وَقَالَ: " قُولِي: اللَّهُمَّ مُصَغِّرَ الْكَبِيرِ، وَمُكَبِّرَ الصَّغِيرِ، صَغِّرْ مَا بِي " فَطُفِئَتْ
ابو التیاح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عبدالرحمن بن خنیس سے جو کہ کافی عمر رسیدہ ہوچکے تھے کہا اے ابن خنیس ! رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دعا پڑھی تھی جب شیاطین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہچانے آئے تھے انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈھتے ہوئے شیاطین گھائیوں اور وادیوں کے پاس آگ کا شعلہ تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے جلانا چاہتے تھے جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گبھرائے اس موقعہ پر جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور انہوں نے فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھے دعا: میں اللہ کے ان پورے کلموں کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں کہ انکے خلاف کوئی نیک اور بد کر ہی نہیں سکتا اس برائی سے جو آسمان سے اُترتی ہے اور چڑھتی ہے اور اس برائی سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے اور رات دن کے فتنوں کی برائی سے اور رات دن کے حادثوں کی برائی سے مگر اس واقعہ سے جو بھلائی لے کر آئے ، اے شفیق مہربان ( ہمارے اوپر رحم فرما ) یہ دعا پڑھنے سے آگ کا وہ شعلہ بجھ گیا اور اللہ عزوجل نے شیطانو ں کو نامراد کر دیا ۔ ابو التیاح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عبدالرحمن بن خنیس سے جو کہ کافی عمر رسیدہ ہوچکے تھے کہا اے ابن خنیس ! رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دعا پڑھی تھی جب شیاطین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہچانے آئے تھے انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈھتے ہوئے شیاطین گھائیوں اور وادیوں کے پاس آگ کا شعلہ تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے جلانا چاہتے تھے جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گبھرائے اس موقعہ پر جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور انہوں نے فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھے ، دعا: میں اللہ کے ان پورے کلموں کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں کہ انکے خلاف کوئی نیک اور بد کر ہی نہیں سکتا اس برائی سے جو آسمان سے اُترتی ہے اور چڑھتی ہے اور اس برائی سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے اور رات دن کے فتنوں کی برائی سے اور رات دن کے حادثوں کی برائی سے مگر اس واقعہ سے جو بھلائی لے کر آئے ، اے شفیق مہربان ( ہمارے اوپر رحم فرما ) یہ دعا پڑھنے سے آگ کا وہ شعلہ بجھ گیا اور اللہ عزوجل نے شیطانو ں کو نامراد کر دیا ۔
«عِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ؟» فَوَضَعَهَا عَلَيْهَا، ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أُصْبُعِي بَثْرَةٌ، ← بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ← مَرْيَمَ بِنْتِ أَبِي بُكَيْرٍ، ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ الزُّرْقَانِيُّ، ← علي بن محمد بن عامر،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter of what is used as a pimple and a pimple · Hadith 636
