عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ نَوْعٌ آخَرُ · حديث 283
282 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخَذَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكُنْ بِكَ السُّوءُ يَا أَبَا أَيُّوبَ، لَا يَكُنْ بِكَ السُّوءُ»
عبداللہ بن بکر بن الباہلی بیان کرتے ہیں حضرت عمر ؓ نے کسی آدمی کی ڈارھی سے یا سر سے کو تنکا سے صاف کیا تو اس آدمی نے دعاء دی کہ اللہ آپ سے برائی دور فرما دے، عمر ؓ نے فرمایا اللہ تعالی نے ہمارے اسلام لانے کے وقت سے ہی ہم سے برائی کو دور کر دیا ہے بلکہ جب سے تمہارے جسم سے کوئی تنکا ، مٹی یا کوئی اور چیز صاف کی جائے تو یہ دعا دیا کرو تمہارے ہاتھوں نے بھالائی حا صل کی۔
رَسُولِ اللهِ شَيْئًا؟ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخَذَ ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › another type · Hadith 283
