عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ تَطْيِيبِ نَفْسِ الْمَرِيضِ · حديث 538
537 - أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَهُوَ يُطَيِّبُ نَفْسَهُ»
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی علیہ وسلم ایک شخص کے پاس تشریف لائے اس کا آخر وقت تھا آپ صلی علیہ وسلم نے اسے سلام کیا اور فرمایا تمہار ا کیا حال ہے اس نے کہا خیریت ہے یار سول اللہ صلی علیہ وسلم اللہ سے مغفرت کی امید رکھتا ہوں لیکن اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہوں ۔ آپ صلی علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو باتیں ( اللہ کی رحمت کی امید اور ڈر) جس بندے کے دل میں آخر وقت میں جمع ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ دیگا جس کی اسے امید ہو گی یعنی مغفرت فرمائے گا اور جس سے وہ ڈرتا ہی (عذاب سے) اس کو محفوظ رکھے گا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← موسى بن محمد ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter on treating the soul of a sick person · Hadith 538
