عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مُمَازَحَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَمُضَاحَكَتِهِ إِيَّاهَا · حديث 612
611 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ [ص:567]، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُنِي وَيُمَازِحُنِي، فَقَالَ: «أَتَزَوَّجْتَ» ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا» ؟ قُلْتُ: ثَيِّبًا. قَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ، وَتُمَازِحُهَا وَتُمَازِحُكَ» ؟
کلثوم بنت عقبہ بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دیتے تھے مگر تین مقام پر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے میں جھوٹا نہیں جانتا اس شخص کو جو صلح کرا دے لوگو ں میں یعنی کوئی بات بنا کر کہے ( جس سے ملاپ کرا دینا منظور ہو یا لڑائی میں کوئی بات بنا کر کہے ) جس سے دشمن گھبرائے اور مسلمانوں کو قوت ہو ، مثلا اپنی شوکت بیان کرے اور کافروں کو قلت وغیرہ ۔ یا شوہر اپنی بیوی سے کہے یا بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے ( جس سے جھگڑا ختم کرنا اور صلح صفائی کرنا مقصود ہو )
«فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ، وَتُمَازِحُهَا وَتُمَازِحُكَ» ← «بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا» قُلْتُ: ثَيِّبًا. ← كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَجَعَلَ يُكَلِّمُنِي وَيُمَازِحُنِي، فَقَالَ: «أَتَزَوَّجْتَ» قُلْتُ: نَعَمْ. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ [ص:144] ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو يَعْلَى
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter A man jokes with his wife and jokes with her · Hadith 612
