عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ · حديث 318
317 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا أَبِي، عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ طَارِقٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرُّوَاسِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ارْضَ عَنِّي. فَأَعْرَضَ عَنِّي ثَلَاثًا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّ الرَّبَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيُتَرَضَّى فَيَرْضَى، فَارْضَ عَنِّي. قَالَ: فَرَضِيَ عَنْهُ "
عمرو بن شعیب کے دادا ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ص فتح مکہ کے موقع پر حجر اسود اور مقام ابراہیم ؑ کے درمیان میں کھڑے ہو کر اللہ تعالی کی تعریف اور پاکی بیان کی پھر فرمایا قریش میرے بارے میں کیا کہتے ہیں انھوں نے کہا آپﷺ ہمارے بیٹے اور بھتیجے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا میں بھی اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کی طرح کہتا ہوں، جاؤ آج تم پر کوئی الزام (مواخذہ) نہیں اللہ تمھیں معاف فرمائے اور وہ سب زیادہ مہربان ہے۔
أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ: ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرُّوَاسِيِّ، ← شيخ يقال له طارق ← أَبِي ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter on what he says when he apologizes to his brother · Hadith 318
