عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا حُمَّ · حديث 568
567 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ [ص:517]، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» . وَدَخَلَ عَلَى ابْنٍ لِعَمَّارٍ، فَقَالَ [ص:518]: «اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، إِلَهَ النَّاسِ»
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مزاج پرسی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے آپ کو بہت تیز بخار تھا اور آپ اپنے بستر پر تشریف فرما تھے ۔ ہم نے حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا آپ نے جواب نہیں دیا (بے ہوشی یا شدید بیماری کی وجہ ) جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر طبیعت ناساز دیکھی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آگئے ( تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے آرامی نہ ہو ) ہم ابھی تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمیں ایک صاحب بلانے آ گئے ۔ ہم واپس پہنچے تودیکھا آپ بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبعیت بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں میرے پاس آئے تھے جب تم میرے پاس سے چلے گئے تو دو فرشتے میرے پاس آئے ایک فرشتہ میرے سر کے پاس بیٹھا ، اور دوسرا میرے پیر کے پاس ، جو پیر کے پاس بیٹھا تھا اسنے اس فرشتے سے پوچھا جو سر کے پاس بیٹھا تھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے سر کے پاس بیٹھنے والے نےجواب دیا انہیں بہت تیز بخار ہے جو پیر کے پاس بیٹھا تھا اس نے کہا تو انہیں دم کردو۔ اس نے ی ہدم کیا " اللہ ہی کے نام سے میں تمہیں دم کرتا ہوں اللہ تمہیں ہر بیماری سے شفاء دے جو تمہیں تکلیف دیتی ہے اور ہر حاسر کے حسد سے اور ہر نظر بد سے اللہ آپ کو محفوظ رکھے اور شفاء دے ایک فرشتے نے دوسرے سے کہا یہ پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھونک دے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جیسے ہی پڑھ کر ی ہدعا پھونگی فوراََ ہی میری بیماری جاتی رہی میں نے تمہیں بلانے کے لیے اس لیے بھیجا تا کہ تمہیں ہی بات بتا دوں ۔
[ص:518]: «اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، إِلَهَ النَّاسِ» ← «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ [ص:517]، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» وَدَخَلَ عَلَى ابْنٍ لِعَمَّارٍ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter what he says when it comes to life · Hadith 568
