عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ الْكُنْيَةِ بِالْأَفْعَالِ · حديث 408
407 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدَانَ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «أَنَا أَوَّلُ، مَنْ نَزَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ، وَتَدَلَّيْتُ بِبَكْرَةٍ، فَكَنَّانِي أَبَا بَكْرَةَ»
زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم صہیب ؓ کے پاس عالیہ میں ان کے با غ میں آئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے صہیب! تمہارے اندر باتوں کے علاوہ اور کوئی چیز قابل مواخذہ نہیں ہے، اگر یہ تین باتیں نہ ہوتیں تو میں کسی کو تم پر فو قیت نہیں دیتا۔ صہیب ؓ نے کہا وہ کیا باتیں ہیں؟ حضرت عمر نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم مال بہت خرچ کرتے ہو اور تم نے اپنی کنیت یحییٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے ابی یحیی رکھی ہے اور تم اپنی نسبت عرب کی طرف کرتے ہو جبکہ تمہاری زبان عجمی ہے۔صہیب ؓ نے جواب میں کہا میں اپنا مال اللہ تعالی کے راستے میں ہی خرچ کرتا ہوں اور جہاں تک میری کنیت کی بات ہے تو رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت ابی یحیی رکھی تھی میں تمہاری بات کی وجہ سے اپنی کنیت نہیں چھوڑوں گا اور عرب کی طرف جو میری نسبت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ روم والوں نے مجھے بچپن میں گالی دی اور میں اپنے اہل کو یاد کرتا ہوں اور اگر چہ مجھ سے لید بھی نکلتی ہعتی ( یعنی میں جانور ہوتا) تو بھی میں اپنی نسبت اسکی طرف ضرور کرتا۔
أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← زَائِدَۃَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدَانَ الْبَجَلِيُّ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › The section Nominative by verbs · Hadith 408
