عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ لِمَرْضَى أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 555
554 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا جَدِّي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، ثنا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اذْهَبُوا بِنَا نَعُودُ جَارَنَا الْيَهُودِيَّ» . قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ» ؟ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ قَالَ [ص:505]: «يَا فُلَانُ، اشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» . فَنَظَرَ الرَّجُلُ إِلَى أَبِيهِ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ، ثُمَّ سَكَتَ ثُمَّ قَالَ: وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ، فَسَكَتَ، فَقَالَ: «يَا فُلَانُ، اشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» . فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: اشْهَدْ لَهُ يَا بُنَيَّ. فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنَ النَّارِ»
علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوا رسول اللہ صلی علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں یہ کہہ رہا تھا یا اللہ اگر میری موت کا وقت آگیا ہے تو پھر جلد مجھ کو موت دے کر راحت دے اور اگر ابھی موت کا وقت نہیں ہے تو پھر مجھ سے یہ بیماری دور فرما دے اور اگر یہ بیماری آمائش و امتحان ہے تو پھر اس پر صبر کی توفیق عنایت فرما ۔ نبی کریم صلی علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کیا دعا کی ہے تو انہوں نے دوبارہ آپ صلی علیہ وسلم کو یہ دعا سنائی آپ صلی علیہ وسلم نے اپنے دم مبارک سے ٹھوکر ماری اور ارشاد فرمایا یا اللہ انہیں عافیت دے یا اللہ انہیں شفا دے دے علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی علیہ وسلم کی مبارک دعا کے بعد پھر میں کبھی اس بیماری سے دو چار نہیں ہوا ۔
«يَا فُلَانُ، اشْهَدْ ← «كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ» فَسَأَلَهُ، ثُمَّ ← فأتيناه ← ((اذهبوا بنا نعود جارنا اليهودي)) ← كنا جلوسا عند رسول الله ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبِي حَنِيفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← جدي عمرو بن أبي عمرو ← أَبُو عَرُوبَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter on what is said to the sick of the people of the Book · Hadith 555
