عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الطَّرِيقِ · حديث 180
179 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ثنا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوا مَجْلِسًا لَمْ يُذْكَرِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ إِلَّا كَانَتْ عَلَيْهِمْ تِرَةٌ، وَمَا سَلَكَ رَجُلٌ طَرِيقًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ إِلَّا كَانَتْ عَلَيْهِ تِرَةٌ»
ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ تبوک میں تھے تو جبرائیل ؑ آئے اور عرض کیا اے محمد ﷺ آپﷺ (اپنے صحابی) معاویہ بن معاویۃالمزنی کے جنازے میں شرکت فرمائیں چناچہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اترے۔ جبرائیل علیہ السلام نے اپنا داہنا پر پہاڑوں پر پھیلایا تو وہ سب ڈھک گئے اور جب اپنا بایاں پر زمینوں پر پھیلایا تو وہ بھی ڈھک گئیں یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ تک دیکھا، رسول اللہ ﷺ ، جبرائیل اور ملائکہ علیہم الصلوٰۃوالسلام نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، جب فارغ ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا اے جبرائیل ( یہ میرے صحابی معاویہ) کس وجہ سے اتنے بڑ ے درجے پر پہنچے ہیں ا نھوں نے جواب دیا اٹھتے بیٹھتے چلتے پھر تے ’’قل ہو اللہ احد‘‘ پڑھنے کی وجہ سے یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے۔
النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى الْحَارِثِ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › The door of the remembrance of God, may God be glorified and exalted in the road · Hadith 180
