عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَنْ لَا يَجُوزُ أَنْ يُخَاطَبَ بِالسُّؤْدَدِ · حديث 392
391 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ: سَيِّدُنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدَكُمْ فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ "
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انھوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! اس آیت کے بعد کسے کامیابی ہو گی جس میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے، ’’ من یعمل سوءیجزبہ (نساء:۱۲۳) جو بھی برائی کریگا وہ اس کا بدلہ پائیگا، انسان اپنے ہر کا م پر جزا و سزا کا مستحق ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ابو بکر ؓ اللہ تمہارے اوپر رحم فرمائے کیا تم بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا تم سختی اور پریشانی نہیں جھیلتے؟ بس یہی بدلہ ہے ( یعنی یہ تکلیفیں برائی کا بدلہ ہو جاتا ، ترمذی کی حدیث میں آپﷺ نے فرمایا مومن کو اسکی برائی کی سزا دنیا میں ہی دیدی جاتی ہے آخرت میں اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا)۔
أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter on who is not permitted to be addressed with a lion · Hadith 392
