عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ نَوْعٌ آخَرُ · حديث 97
96 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَارْضَ عَنَّا رِضًا لَا سَخَطَ بَعْدَهُ، اسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دَعْوَتَهُ "
ابو امامہ ؓ بیا ن کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرماہا جب مؤذن اذان دیتا ہے، تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دعا قبول کیجاتی ہے تو جو مصائب و مشکلات سے دوچار ہو تو اسے چاہیئے کہ مؤذن کا جواب دے۔ جب وہ اللہ اکبر کہے تو یہ بھی اللہ اکبر کہے، جب وہ ’’اشہدان لا الہ اللہ ‘‘ کہے تو یہ بھی اسی طرح کہے، اور جب وہ ’’اشھدان محمد رسول اللہ ‘‘ کہے تو یہ بھی اسی طرح کہے اور جب مؤ ذن ’’حی علی الصلوۃ‘‘ کہے تو سننے والا بھی اسی طرح کہے ، جب وہ ’’حی علی الفلاح‘‘ کہے تو یہ بھی اسی طرح کہے، پھریہ دعا پڑھے۔ ’’ الھم رب ھزہ الدعوۃالمستجاب لھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ومما تا‘‘، پھر اپنی حاجرت کا اللہ سے سوال کرے۔
جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › another type · Hadith 97
