عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا آخَاهُ أَوْ أَحَبَّهُ · حديث 201
200 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَحْبَبْتَ رَجُلًا فَلَا تُمَارِهِ، وَلَا تُجَارِهِ، وَلَا تُشَارِهِ، وَلَا تَسْأَلْ عَنْهُ؛ فَعَسَى أَنْ يُوَافِقَ لَهُ عَدُوًّا، فَيُخْبِرَكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ؛ فَيُفَرِّقَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ»
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب عبدالرحمن بن عوف ( مکہ سے مدینے) آئے تو رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع کو بھائی بنا دیا اور سعدؓ مالدار آدمی تھے تو سعد ؓ نے کہا انصار کو معلوم ہے میں مالدار آدمی ہوں تو میں (اب مواخات کے بعد اے عبدالرحمٰن) اپنے اور تمہارے درمیان مال تقسیم کر دوں گا ( آدھا میرا آدھا تمہارا) اور میری دو بیویاں ہیں تم انھیں دیکھ لو جو تمہیں پسند آئے میں اسے طلاق دیدیتا ہوں جب اس کی عدت پوری ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لینا ( یہ سب باتیں سن کر) عبدالرحمٰن نے کہا بھائی اللہ تمہارے اہل و عیال کو قائم رکھے اور تمہارے مال میں برکت عطاء فرمائے تم مجھے بازار کا راستہ بتاؤ جب بازار گئے تو محنت سے خریدو فروخت کے بعد بہت سا گھی اور پنیر وغیرہ فائدہ میں لیکر آئے۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← غَالِبُ بْنُ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter forbidding a man to ask about a man if he is a brother or a loved one · Hadith 201
