عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ · حديث 107
106 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا، جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ: اللَّهُمَّ آتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ [ص:96]. فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟» قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «إِذًا يُعْقَرُ جَوَادُكَ، وَتُسْتَشْهَدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ ایک دن صحابہ کرام کو نماز پڑھا رہے تھے تو ایک آدمی (جلدی میں ) آکر نماز میں شامل ہو گئے اور ان کا سانس پھول رہا تھا، انھوں نے کہا، اللہ اکبر الحمداللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکہ رفیہ، اللہ بہت بڑا ے، سب تعریف اللہ کے لئے ہے ایسی تعریفیں جو زیادہ ہیں پاکیزہ ہیں جن میں برکت دی گئی ہے جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا تم میں سے کس شخص نے یہ کلمات کہے لوگ خاموش رہے، پھر دوبارہ آپﷺ نے یہی فرمایا کہ تم میں سے کس شخص نے یہ کلمات کہے ہیں پھر انہوں نے کچھ کہنے میں حرج نہیں سمجھا اور عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! جلدی میں ( آنے کی وجہ سے ) میرا سانس پھول رہا تھا تو میں نے یہ کلمات کہے، آپ ﷺ نے فرمایا میں نے فرشرتوں کو دیکھا کہ اس دعاء کو لینے میں پیش دستی کرتے تھے کہ کون ان میں سب سے پہلے اٹھائے۔
سَعْدٍ، ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter of what he says when he ends in a row · Hadith 107
