عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ نَوْعٌ آخَرُ · حديث 456
455 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِذَا غَضِبَتْ عَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْفِهَا، ثُمَّ يَقُولُ: " يَا عُوَيِّشُ، قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ "
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں اور میرے دو ساتھی ( مدینے ) آئے تو فقر وفاقہ کی وجہ سے ہمارے کان اور آنکھیں بہت کمزور ہو گئی تھیں ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر پیش کرتے ( تاکہ وہ ہمیں کھلائیں اور پلائیں) لیکن کوئی بھی ہم لوگوں کو قبول کرنا گوارا نہ کرتا تھا ( اس لیے کہ انکے حالات خود کمزور تھے ) تو ہم پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے آپ ﷺ ہمیں اپنے گھر لے گئے وہاں تین بکریاں تھیں آپ ﷺ نے فرمایا ان کا دودھ نکالو اور اپنا اپنا حصہ تقسیم کرلو ۔ پس ہم دودھ دوہتے تھے ( اور اپنا اپنا حصہ پیتے تھے ) اور رسول اللہ ﷺ کا حصہ رکھ لیا کرتے تھے رسول اللہ ﷺرات کو جب تشریف لاتے تو آپ اس طرھ سلام کرتے تھے کہ نہ سونے والے کو جگاتے تھے اور جاگنے والا آپ ﷺ کا سلام سن لیتا تھا ، پھر آپ مسجد میں تشریف لاتے اور نماز (تہجد) ادا فرماتے پھر آکر اپنے حصہ کا دودھ نوش فرماتے۔
كَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا غَضِبَتْ عَرَكَ النَّبِيُّ بِأَنْفِهَا، ثُمَّ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ ← أَبُو الْعُمَيْسِ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَسْعُودٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › another type · Hadith 456
