عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَافَ سُلْطَانًا · حديث 346
345 - أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَارِثِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خِفْتَ سُلْطَانًا أَوْ غَيْرَهُ، فَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ [ص:306] وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ "
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبدالملک نے حجاج بن یوسف کی طرف لکھا کہ انس بن مالک کی طرف دیکھو اسے اپنی مجلس کے قریب کرو اور بہترین وظیفہ دو اور ان کی عزت کرو تو فرماتے ہیں میں اس کے پاس آیا، تو اس نے مجھے ایک دن کہا میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے گھوڑے آپ پر پیش کروں تو آپ بتائیں ان کا رسول اللہ ﷺ کے گھوڑوں کے مقابلے میں کیا مقام ہے تو اس نے پیش کئے۔ میں نے کہا ان دونوں بہت دور کا فرق ہے کیونکہ ان کے تولید اور پیشاب اور چارہ بھی نیکیاں تھیں، تو اس پر حجاج نے کہا اگر تیرے بارے میں امیر المومنین کا خط نہیں ہوتا تو میں تیری آنکھ نکال دیتا، تو اس پر میں نے کہا کہ تو اس بات پر قدرت نہیں رکھتا۔حجاج نے کہا وہ کیسے؟ میں نے کہا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ایسی دعاء سکھائی ہے کہ جب میں اسے پڑھتا ہوں تو شیطان، سلطان اور کسی درندے کا ڈر نہیں رہتا۔حجاج کہنے لگے اے ابو حمزہ اپنے بھتیجے محمد بن حجاج کو وہ دعا سکھاؤ تو میں نے اس پر انکار کر دیا، پھر اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اپنے چچا انس کے پاس جاؤ اور اسے کہو وہ دعاء مجھے سکھا دے۔ ابان کہتے ہیں جب حضرت انس پر موت کا وقت آیا تو انھوں نے مجھے بلایا، کہا اے احمر تیری اور میری جدائی کا وقت آگیا ہے اور یقیناً تیری حرمت بھی واجب ہو چکی ہے میں تمھیں وہ دعا سکھاتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائی تھی، لیکن تم یہ دعاء کسی ایسے شخص کو مت سکھانا جس میں اللہ کا خوف نہ ہو یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ فرمایا۔ فرمایا دعاء یہ ہے کہو اللہ اکبر باسم للہ علی نفسی و دینی۔۔۔۔الی اٰخرۃ۔ اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے نام سے میں اپنے نفس اور اپنے دین پر اس کی مدد چاہتا ہوں اللہ کے نام کے ساتھ ہر ایک چیز پر اس کی مدد چاہتا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ ہی میں اپنا ہر کام شروع کرتا ہوں اللہ ہی پر تمام تر بھروسہ کرتا ہوں اللہ ہی میرا رب ہے اس کے ساتھ کبھی میں کسی کو شریک نہیں کرونگا۔ اے اللہ ! میں تجھ سے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو تیرے سوا کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ تیری پناہ غالب ہے تیری تعریفیں بلند ہیں اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے میں ہر بادشاہ اور شیطان مردود کے شر میں تجھ سے شر والی مخلوق سے پناہ مانگتاہوں اور سورۃاخلاص کو اپنے پیش نظر رکھتا ہوں اور اپنے پیچھے بھی اسی طرح اور اپنے دائیں اور بائیں بھی اسی طرح اور اپنے اوپر بھی اسی طرح رکھتا ہوں۔
ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← محمد بن عبد الرحمن البيلماني ← محمد بن الحارث الحارثي ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← جعفر بن عيسى،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter what he says if Sultan is afraid · Hadith 346
