عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ ابْتِدَاءً · حديث 237
236 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيْكَ السَّلَامُ. قَالَ: " إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى، إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ "
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بنی اسلم کے ایک نوجوان نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں کہ میں سواری ہتھیار وغیرہ کی تیاری کروں، آپﷺ نے فرمایا انصاری کے پاس جاؤ کیونکہ انھوں نے جہاد کے لیے تیاری کر رکھی ہےان سے کہنا رسول اللہ ﷺ تمہیں سلام کہتے ہیں اور کہنا تم نے جو جہاد کے لئے سواری اور ہتھیار وغیرہ تیار کر رکھے ہیں وہ مجھے دیدو۔
قُلْتُ ← رَجُلٌ: ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← خَالِدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter forbidding the man to say, "Peace be upon you," · Hadith 237
