عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَنْ بَدَأَ بِالْكَلَامِ قَبْلَ السَّلَامِ · حديث 215
214 - أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ [ص:177] ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَأَ بِالْكَلَامِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِيبُوهُ»
عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپﷺ کے استقبال کے لئے نکلے میں بھی آپﷺ کو دیکھنے کے لئے آیا ، جب میں نے حضور ﷺ کا چہرہ انور دیکھا تو میں پہچان گیا یہ چہرہ جھوٹ بولنے والا نہیں ہے ( آپﷺ کے چہرہ انور پر انوار و برکات کے جلوے نمایاں تھے جس سے یہ سمجھ گئے کہ آپﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں) عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں سب سے پہلے جو میں نے ارشاد سنا یہ تھا ، لوگو! آپس میں سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ صلہ رحمی کرو، اور رات کو نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں( یہ اعمال کر کے) سلامتی کے ساتھ جنت میں چلے جاؤ۔
[ص:568] ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابن ابي رواد، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِمْصِيُّ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter of the one who began to speak before peace · Hadith 215
