عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ التَّفْدِيَةِ بِالْوَجْهِ · حديث 442
441 - حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا لَقِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ جَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَثَرَ كِنَانَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: «وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ، وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ، وَعَلَيْكَ سَلَامُ اللَّهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ»
ابی معلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اس میں آپ ﷺ نے فرمایا ایک بندہ کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ جب تک چاہے دنیا میں رہے اور وہاں کھائے پیئے زندگی بسر کرے اور چاہے تو اپنے رب سے ملاقات کر ے( اللہ کے پاس آجائے) تو اس بندے نے اپنے رب سے ملنے کو اختیار کیا ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ فرمان سن کر رونے لگے اور فرماتے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہمارے مال اور اولاد آپ ﷺ پر قربان ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص مجھ پر زیادہ مال خرچ کرنے والا اور حقوق صحبت ادا کرنے والا ابن ابی قحافہ ( ابو بکر رضی اللہ عنہ) سے بڑھ کر نہیں ہے اگر میں کسی کو دلی دوست بناتا تو ابن قحافہ رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن ایمان دینی دوست اور برادری بہت عظیم ہے اور بے شک تمہارے صاحب ( یعنی نبی علیہ السلام ) تو اللہ کے خلیل ولی دوست ہیں ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › The door of redemption in front · Hadith 442
