عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ الْمُخَاطَبَةِ بِالْأُخُوَّةِ · حديث 386
385 - أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَقَالَ: «لَا تَنْسَنَا يَا أَخِي مِنْ دُعَائِكَ»
سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں میں ایک ندی پر سے گزرا تو میں نے اس میں غسل کیا جب نہا کر باہر نکلا تو بخار چڑھا ہوا تھا پھر اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی آپ ﷺ نے فرمایا اس کو کہو ’’اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ‘‘ پڑھے میں نے عرض کیا کہ میرے سید دم کرنا، جھاڑنا بھی مفید ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا دم کرنا، جھاڑنا تو تین چیزوں کے لیئے ہوتا ہے ایک سانپ کے کاٹنے کے لئے، دوسرا نظر بد لگنے پر، اور تیسرا بچھو کے ڈنک مارنے پر، یعنی ان حالار میں دم کرنا جھاڑنا زیادہ مفید ہے۔
لَا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِکَ ← عُمَرَ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ فِي الْعُمْرَةِ، ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter of addressing brotherhood · Hadith 386
