عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يُعَوِّذُ بِهِ الصِّبْيَانَ · حديث 635
634 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ يَقُولُ [ص:589]: «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» . وَيَقُولُ: «هَكَذَا كَانَ أَبِي إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ»
ابو سعید خدری (ر) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تیس سواروں کے ساتھ ایک جہاد میں بھیجا پھر ایک عرب قبیلے پر سے گزرے ہم نے ان سے کہا ہماری ضیافت کرو لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سےا نکار کر دیا خیر اچانک ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مارا اور وہ سردار کو لیکر ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے تم میں سے کوئی بچھو کے کاٹے کا علاج دم جھاڑ کرنا جانتا ہے ؟ ابو سعید (ر) کہتے ہیں میں نے کہا ہاں میں جانتا ہوں لیکن میں دم جھاڑ نہیں کرونگا مگر اس صورت میں ہ تم ہمیں چند بکریاں اس کے بدلے میں دو ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں تیس بکریاں دینگے میں نے اس پر سات بار سورہ فاتحہ پڑھی وہ اچھا ہو گیا۔ ہم نے وہ بکریاں لے لیں پھر ہمارے میں شبہہ ہوا کہ ( یہ مال حلال ہے ہے یا نہیں ) ہم انکے کھانے سے رکے رہے ۔ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو ہم نے پورا واقعہ بیان کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا تھا کہ سورۃ فاتحہ ہر ایک بیمار کا علاج ہے ۔ پھر فرمایا ان بکیروں کو بانٹ لو اور اس میں میرا حصہ بھی نکالو ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Section What children seek refuge in · Hadith 635
