عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ لِمَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ · حديث 629
628 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ فَرَجٍ الرِّيَاشِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى الثَّوْرِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: ثنا أَبِي، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ضَرِيرٌ، فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ [ص:582]، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَصْبِرُ» ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي قَائِدٌ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ايتِ الْمِيضَاةَ فَتَوَضَّأْ، وَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَا نَبِيَّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَتُجْلِي عَنْ بَصَرِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ وَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي " قَالَ عُثْمَانُ: وَمَا تَفَرَّقْنَا، وَلَا طَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ ضَرِيرًا قَطُّ
خارجہ بن صلت اپنے چچا (علاقہ بن صمار تمیمی رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے کرتے ہیں وہ نبی صلی علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوئے پھر آپ صلی علیہ وسلم کے ہاں رخصت ہو کر چلے تو عرب کے ایک قبیلے والوں کے ہاں ہم آئے وہ کہنے لگے کہ تمہارے پاس کوئی دوا ہے کیونکہ ہمارے ہاں ایک دماغی مریض زنجیر میں بندھا ہوا ہے وہ اس مریض کو بیڑیوں میں بندھا ہوا لائے (صحابی کہتے ہیں ) میں نے اس پر صبح شام تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھی میں اپنا لعاب جمع کر کے اس پر پھونک مار دیتا تھا پھر وہ شخص ایسا ہو گیا جیسے قید سے چھوٹ گیا ( یعنی خوش و خرم بالکل تندرست اور صحت مند ) قبیلے والوں نے مجھے اسکا معاوضہ دیا میں نے لینے سے انکار کر دیا تو وہ کہنے لگے نبی کریم صلی علیہ وسلم سے پوچھ لو ، چنانچہ میں نے آپ صلی علیہ وسلم سے پوچھا ، آپ صلی علیہ وسلم نے فرمایا ( یہ معاوض قبول کر لو ) کھاؤ میری عمر کی قسم ( یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری بقاء ہے ) افسوس اس کے لیے جو باطل دم جھاڑے پر کھاتا ہے تو نے تو حق اور سچے دم جھاڑے پر کھایا ہے ۔ ( یعنی سورۃ فاتحہ ہر مرض کے لیے دوا شفاء ہے ۔ )
رَسُولُ اللَّهِ «أَلَا تَصْبِرُ» ← رَسُولَ اللَّهِ وَجَاءَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ضَرِيرٌ، فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ [ص:582]، ← عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ فَرَجٍ الرِّيَاشِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى الثَّوْرِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter of what he says to one who has lost his sight · Hadith 629
