عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى فِي مَنَامِهِ مَا يَكْرَهُ · حديث 771
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلْيَقُصَّهُ عَلَى مَنْ يُحِبُّ [ص:692]، وَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ»
ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایسے خواب دیکھتا تھا کہ جو (خوف اور دہشت کی وجہ سے مجھے بیمار کر دیتے تھے پھر میں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے تھے اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں جبکہ تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھتے تواسے اپنے پسندیدہ شخص کے سامنے بیان کرے اور اگر بے خواب دیتے تو کسی کےسامنے بیان نہ کرے (بلکہ اسی وقت) اس خواب کی برائی سے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے (یعنی ) اعوذ باللہ)پڑھے ۔اور تین بار اپنے بائیں جانب تھتکار دے تو وہ کواب اسے کوئی نقصان نہیں دے گا۔ (ان شاء اللہ )
أَبَا قَتَادَةَ، ← إن كنت لأرى الرؤيا فتمرضني، حتى ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter of what he says when he sees in his sleep what he hates · Hadith 771
