عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ تَسْلِيمِ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ · حديث 161
160 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلْإِسْلَامِ ضَوْءًا وَمَنَارًا كَمَنَارِ الطَّرِيقِ، مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ، وَتَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْي عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتَسْلِيمُكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ إِذَا دَخَلْتَ عَلَيْهِمْ، وَتَسْلِيمُكَ عَلَى مَنْ مَرَرْتَ بِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ رُدُّوا عَلَيْكَ رَدَّتْ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنْ لَمْ يَرُدُّوا عَلَيْكَ رَدَّتْ عَلَيْكَ وَلَعَنَتْهُمْ، أَوْ سَكَتَتْ عَنْهُمْ، فَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ سَهْمٌ مِنَ الْإِسْلَامِ تَرَكَهُ، وَمَنْ نَبَذَهُنَّ فَقَدْ وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَهُ»
ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ ، نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا تین اشخاص ہمیشہ اللہ عزوجل کی حفاظت اور رحمتونکے سائے میں رہتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اگر وہ جہاد میں مارا گیا تو شہادت کے درجے سے سرفرا ز ہرہوا ورنہ غازی بن کر اگرو ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹتا ہے، دوسرا وہ شخص جو نماز کے لئے مسجد میں جاتا ہے اس کی حفاظت بھی اللہ عزوجل نے اپنے ذمے لی ہے، اگر وہ فوت ہو جاتا ہے تو (سیدھا) جنت میں جاتا ہے یا اجروثواب سے مالا مال ہو کر اپنے گھر واپس آجاتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی حفاظت اور رہنمائی فرماتا ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سليمان بن عمر بن خالد ← أَبُو عَرُوبَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › The door to surrendering a man to his family when he enters his house · Hadith 161
