عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ كَمْ مَرَّةً يَقُولُ ذَلِكَ · حديث 627
626 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ مِنْ هَذَا الْوَسْوَاسِ شَيْئًا فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثًا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ "
عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے سنا ہے جب ایک نابینا آدمی آپ صلی علیہ وسلم کے پاس آکر اپنی بینائی کے ضائع ہونے کا شکوہ کر رہے تھے رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس پریشانی پر تم صبر نہیں کرتے؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی علیہ وسلم مجھ کو کوئی لانے لے جانے والا نہیں ہے اس لیے بینائی کا ضائع ہونا میرے لیے بہت پریشانی کا باعث ہے پھر نبی صلی علیہ وسلم نے فرمایا پانی کا برتن لاؤ اور اچھی طرح وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھو پھر اس طرح دعا مانگو ا اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور محمد صلی علیہ وسلم کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ اے نبی رحمت اے محمد صلی علیہ وسلم میں آپ صلی علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کی طرف متوجہ کرتا ہوں یا اللہ میری آنکھوں کو روشن فرما دے یا اللہ میرے بارے میں آپ صلی علیہ وسلم کی سفارش اور میری درخواست قبول فرما لے۔ روای عثمان بن حنیف کہتے ہیں ابھی ہم وہاں سے اُ ٹھے بھی نہیں تھے اور نہ زیادہ دیر ہوئی تھی پھر وہی شخص اس طرح چلتے ہوئے آئے گویا کبھی وہ نابینا تھے ہی نہیں ( یعنی انکی بینای ٹھیک ہو گئی)۔
عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← لَيْثِ بْنِ سَالِمٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › How many times does he say that? · Hadith 627
