عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَنْ يَرُدُّ عَلَى مَنْ يَفْدِيِهِ · حديث 444
443 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي رَبَاحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ: نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يُفْدَى الْحَبِيبُ بِالْحَبِيبِ» قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: كَمَا تَقُولُ فَدَيْتُكَ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آئے انہوں نے نبی کریم ﷺ اور سب لوگوں کو السلام علیکم کہا ، نبی کریم ﷺ نے جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ فرمایا جب وہ آدمی مجلس میں بیٹھ گئے تو انہوں نے کہا سب تعریف اللہ تعالی ہی کے لیے ہے بے شمار طیب اور مبارک تعریفیں اور ایسی تعریف جو ہمارے رب کو پسند ہے اور جیسی اسکی شایان شان ہیں جن سے وہ راضی اور خوش ہو جائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے کیا کہا ہے ؟ تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کلمات دوبارہ سنائے نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو ارشاد فرمایا ، اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دس فرشتے اس دعا کو لکھنے کے لیے لپکے ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش تھی کہ وہ انہیں لکھیں ، وہ نہیں جانتے تھے کہ اتنے عظیم کلمات کو کیسے لکھیں یہاں تک کہ اللہ عزوجل تک لے گئے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ جیسے میرے بندے نے کہا ہے ویسے ہی لکھ دو یعنی اتنے عمدہ اور افضل کلمات کا اجرو ثواب لکھنے کی تو تم طاقت نہیں رکھتے بس وہی کلمات لکھ دو جو بندے نے کہے ہیں ۔
أَبِيهِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ← رباح بن محمد ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › The door of those who return to those who redeem it · Hadith 444
