عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ كَيْفَ يَدْعُو الرَّجُلُ لِأَخِيهِ · حديث 203
202 - أَخْبَرَنَا ابْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ أَحَدُنَا إِذَا دَعَا لِأَخِيهِ فَاجْتَهَدَ قَالَ: جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ صَلَاةَ قَوْمٍ أَبْرَارٍ، يَقُومُونَ اللَّيْلَ وَيَصُومُونَ النَّهَارَ، لَيْسُوا بِأَثَمَةٍ وَلَا فُجَّارٍ "
سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے دولت کدہ میں اند ر آنے کی اجازت مانگی اس وقت آپﷺ کے پاس قریش کی عورتیں ( آپکی ازواج مطہرات وغیرہ) موجود تھیں جونہی حضرت عمر ؓ نے اندر آنیکی اجازت چاہی او سب پردے میں چلی گئیں۔حضرت عمر ؓ جب اندر آئے تو حضور ﷺ ہنس رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ، اللہ آپ ﷺ کو ہنستا رکھے( معاملہ کیا ہے) آپﷺ نے فر مایا مجھے ان عورتوں پر بڑا تعجب ہوا جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہو ئی تھیں جو نہی انھوں نے تمہاری آواز سنی تو وہ جلدی سے پردے میں چلی گئیں، پھر حضرت عمر ؓ ان عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ، اے اپنی جانوں کہ دشمنوں ( یہ کیا غضب ہے) مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈرتی، عورتوں نے کہا ہاں ( اے عمرؓ) تم بہت غصیلی طبیعت کے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اے خطاب کے بیٹے ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب شیطان تم کو ایک راستے میں چلتا دیکھتا ہے تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے۔
كَانَ أَحَدُنَا إِذَا دَعَا لِأَخِيهِ فَاجْتَهَدَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنُ مَنِيعٍ،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter How can a man call his brother · Hadith 203
