عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ مَرْحَبًا · حديث 190
189 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَرْوَانَ الْأَزْدِيُّ، مِنْ أَهْلِ الرَّهَا، ثَنَا عِصَامُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي: " أَنَّ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ، وَفَّدُوهُ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَرْحَبًا، وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، بَنُو الْحَارِثِ وَفَّدُونِي إِلَيْكَ بِالْإِسْلَامِ. فَقَالَ: «مَرْحَبًا، مَا اسْمُكَ» ؟ قُلْتُ: اسْمِي أَكْبَرُ. قَالَ: «بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ» . فَسَمَّانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا "
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا میرے اور آپ ﷺ کے درمیان میں سوائے پالان کی پچھلی لکڑی کے کچھ نہ تھا، آپﷺ نے فرمایا، اے معاذؓ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں پھر آپﷺ تھوڑی دور چکے اس کے بعد فرمایا اے معاذ! میں نے جواب دیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا تم جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ خوب جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں پھر آپﷺ تھوڑی دور چلے پھر پھر فرمایا ، اے معاذؓ! میں نے عرض کیا اللہ نے رسول ﷺ میں حاضر ہوں، آپ نے فرمایا، تم جانتے ہو بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جبکہ بندے اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ میں نے عرض کیا اللہ اور اسکا رسول ﷺ خوب جانتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا وہ یہ حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہ کرے۔
«مَرْحَبًا، وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟» قُلْتُ: ← فَدخلت على النَّبِي فَسلمت عَلَيْهِ ← أبي ان بني الْحَارِث بن كَعْب وفدوة إِلَى رَسُول الله ← عِصَامُ بْنُ بَشِيرٍ ← سعيد بن مَرْوَان الْأَزْدِيّ من أهل الرها ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › The door of a man's saying to the man, welcome · Hadith 190
