عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِهِ · حديث 531
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ سَاجِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ»
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جسکے اندر کتا ہوا یا تصویر یں ہوں ، یہ سن کر زید بن خالد نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا میرے ساتھ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں پوچھا ام المومنین نے جواب دیا کہ جو تم کہتے ہو یہ تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے سننا مجھے یاد نہیں ہے ، لیکن ایک بار رسول اللہ صلی علیہ وسلم ایک غزوہ پر گئے ہوئے تھے جب ان کے لوٹنے کا وقت قریب ہوا تو میں نے اپنے گھر کے تخت کو ایک کپڑے سے مزین کیا پس جب آپ داخل ہوئے تو میں نے آپکا استقبال کیا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا سب تعریفیں اس اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے آپ کی نصرت کی اور آپ کو معزز و مکرم بنایا ، پس میں نے آپکی طرف دیکھا تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار پائے یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ کاش میں ایسا نہ کرتی اور آپ صلی علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے کھینچ لیا پھر کپڑے کے پاس آئے اسے کھینچ لیا اور کہا اے عائشہ بے شک اللہ نے ہمیں حکم دیا اس چیز میں کہ جو اس نے ہمیں عطا کی کہ ہم پتھر اور اینٹ پہنیں تو میں نے اس کپڑے کے دو تکئے بنا لیے تو آپ صلی علیہ وسلم ان پر بیٹھے اور ان کو برا نہیں سمجھا ۔
عَبْدُ اللَّهِ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَبُو يَعْلَى
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › Chapter of what he says when he closes from his travel · Hadith 531
