عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ نَوْعٌ آخَرُ · حديث 626
625 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثنا قَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ [ص:580]، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ يَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَمِنْ فِتْنَتِهِ "
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ لوگ فضول اور بے مقصد سوال اور بحثوں میں پڑ جائیں گے یہاں تک کہ کہنے والا کہے گا ٹھیک ہے اللہ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اللہ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے مگر اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا ہے؟ جب ایسی فضول باتیں ہونے لگیں تو اس موقع پر پڑھ (سورۃ اخلاص) ترجمہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے اور نہ ہی اسکے جوڑ کا کوئی ہے پھر اپنے بائیں کاندھے پر تین بار اعوذ پڑھ کر پھونک لو۔
أَبُو هُرَيْرَةَ ← عُرْوَةَ، [ص:453] ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← قَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › another type · Hadith 626
