عمل اليوم والليلة · کتاب ‹ نَوْعٌ آخَرُ · حديث 738
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ صَحِبْتُهُ يَنَامُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا حَتَّى يَتَعَوَّذَ مِنَ الْجُبْنِ، وَالْكَسَلِ، وَالسَّآمَةِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ»
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس قیدی آئے تو میں نے فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ سےکہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کام کاج کے لیے ایک خادم مانگ لو ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ خود اپنے ہاتھ سے چکی پیستیں جس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ، چنانچہ فاطمہ (خادم مانگنے کے لیے ) چلیں ، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کےہاں تھی ،فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ، چنانچہ تین بار وہ آئیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر گھر تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ، اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کئی بار آج آپ کو تلاش کر تی ہوئی آئیں مگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ملے ،علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ سردیوں کی رات تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج وہ ضرور کسی خاص کام سے آئیں ہوں گی۔چنانچہ فاطمہ الزہرا کے گھر تشریف لائے اور دروازے پرکھڑے ہو گئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں اور فاطمہ سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹ گئے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کے لیے اجازت طلب فرمائی تو میں اٹھنے کے لیے ہلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اُٹھنے کی ضرورت نہیں تم دونوں اپنے بستر پر ہی رہو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے سر کی پاس بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ٹھنڈا قدم مبارک ان دونوں کے درمیان رکھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک میرے سینے کو محسوس ہوئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ آج تم کس لیے میرے پاس آئی تھی انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آج میں نے آٹا پیسا جس سے مجھے بہت تکان اور تکلیف ہوئی اور میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے حاضر ہوئی تھی کہ آپ مجھ کو ایک خادم عنایت فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں جس کی تم درخؤاست کرتے ہو؟ علیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیاجی ہاں ضرور بتایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم دونوں سونے لگو تو 34بار اللہ اکبر ،33بار سبحان اللہ 33بار الحمد للہ پڑھ لیا کرو یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میں نے یہ وظیفہ کبھی نہیں چھوڑا ۔ ابن الکواء نےکہا صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑا۔علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صفین کی اخیر رات میں سحری کے وقت مجھے یاد آیا میں نے اسی وقت یہ وظیفہ پڑھ لیا۔
عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← السري بن اسماعيل ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← محمد بن محمد،
Amal Al Yoom w Al Lail · Book › another type · Hadith 738
