شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5759
5445 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن بن جريج عن عطاء وسليمان بن موسى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن قال أبو جعفر فقال قائل فلما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن لصاحبه غنمه وعليه غرمه ثبت بذلك أن الرهن لا يضيع بالدين وأن لصاحبه غنمه وهو سلامته وعليه غرمه وهو غرم الدين بعد ضياع الرهن وهذا تأويل قد أنكره أهل العلم جميعا باللغة وزعموا أن لا وجه له عندهم والذي حملنا على أن نأتي بهذا الحديث وإن كان منقطعا احتجاج الذي يقول بالمسند به علينا ودعواه أنا خالفناه وقد كان يلزمه على أصله لو أنصف خصمه أن لا يحتج بمثل هذا إذ كان منقطعا وهو لا يقوم الحجة عنده بالمنقطع فإن قال إنما قبلته وإن كان منقطعا لأنه عن سعيد بن المسيب ومنقطع سعيد يقوم مقام المتصل قيل له ومن جعل لك أن تخص سعيدا هذا وتمنع منه مثله من أهل المدينة مثل أبي سلمة والقاسم وسالم وعروة وسليمان بن يسار رحمة الله عليهم وأمثالهم من أهل المدينة والشعبي وإبراهيم النخعي وأمثالهما رحمة الله عليهم من أهل الكوفة والحسن وابن سيرين وأمثالهما رحمة الله عليهم من أهل البصرة وكذلك من كان في عصر من ذكرنا من سائر فقهاء الأمصار رحمة الله عليهم ومن كان فوقهم من الطبقة الأولى من التابعين مثل علقمة والأسود وعمرو بن شرحبيل وعبيدة وشريح رحمة الله عليهم لئن كان هذا مطلقا في سعيد بن المسيب فإنه مطلق لغيرك فيمن ذكرنا وإن كان غيرك ممنوعا من ذلك فإنك ممنوع من مثله لأن هذا تحكم وليس لأحد أن يحكم في دين الله بالتحكم وقد قال أهل العلم في تأويل قول رسول الله صلى الله عليه و سلم غير ما ذكرت
عطاء اور سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے اور اس کے مالک کو اس فائدہ ہے اور اس کا تاوان اسی پر ہے تو اس سے ثابت ہورہا ہے کہ رہن قرض کے بدلے ضائع نہ ہو گا اور اس کے مالک کے لیے اس کا نفع ہے اور وہ اس مرہونہ چیز کا سلامت رہنا ہے اور اسی کے ذمہ اس کا تاوان ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مرہونہ شئی کے ضائع ہونے کے بعد اس پر قرض کا تاوان ہو گا۔ ان کو جواب میں کہیں گے کہ تمام اہل لغت نے اس تاویل کا انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس معنی کی کوئی صورت نہیں ہے اگرچہ یہ روایت منقطع ہے لیکن اس کے باوجود اس کے لانے پر اس وجہ سے مجبور ہوئے کہ مخالف نے اسی سے ہمارے خلاف استدلال کر کے ہمیں اس حدیث کے مخالف گردانا ہے حالانکہ اگر ہمارے ساتھ انصاف سے پیش آتا تو خود اپنے قاعدے کے مطابق اس سے استدلال ہی نہ کرتا ۔ کیونکہ یہ منقطع ہے اور حدیث منقطع ان کے ہاں حجت نہیں ۔ بالفرض اگر وہ کہیں کہ منقطع ہونے کے باوجود اس کو اس لیے قبول کیا کہ سعید بن مسیب کی منقطع بھی متصل کے قائم مقام ہے ۔ تو اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ یہ بات سعید بن مسیب کے ساتھ خاص کرنے کا ھق آپ جو کہاں سے مل گیا حالانکہ ان کے برابر اہل مدینہ کے علماء مثلا ابو سلمہ ، قاسم ، سالم ، عروہ ، سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہم سے ایسی منقطع روایت کا آپ انکار کرتے ہیں اسی طرح ان جیسے اہل کوفہ کے علماء شعبی ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہم سے بھی تسلیم نہیں کرتے اگر منقطع روایت کا قبول کر لینا آپ کے لیے مطلقا سعد بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق درست ہے تو دوسروں کے لیے ان حضرات کی ایسی روایت مطلقاَ درست ہو گئی اور اگر دوسروں کے لیے یہ بات جائز نہیں مانتے تو آپ کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں ورنہ تو یہ محض ضد اور کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے دین میں ایسی ضد بازی کی قطعا اجازت نہیں ۔
عطاء وسليمان بن موسى ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5759
