Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5759

5445 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن بن جريج عن عطاء وسليمان بن موسى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن قال أبو جعفر فقال قائل فلما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن لصاحبه غنمه وعليه غرمه ثبت بذلك أن الرهن لا يضيع بالدين وأن لصاحبه غنمه وهو سلامته وعليه غرمه وهو غرم الدين بعد ضياع الرهن وهذا تأويل قد أنكره أهل العلم جميعا باللغة وزعموا أن لا وجه له عندهم والذي حملنا على أن نأتي بهذا الحديث وإن كان منقطعا احتجاج الذي يقول بالمسند به علينا ودعواه أنا خالفناه وقد كان يلزمه على أصله لو أنصف خصمه أن لا يحتج بمثل هذا إذ كان منقطعا وهو لا يقوم الحجة عنده بالمنقطع فإن قال إنما قبلته وإن كان منقطعا لأنه عن سعيد بن المسيب ومنقطع سعيد يقوم مقام المتصل قيل له ومن جعل لك أن تخص سعيدا هذا وتمنع منه مثله من أهل المدينة مثل أبي سلمة والقاسم وسالم وعروة وسليمان بن يسار رحمة الله عليهم وأمثالهم من أهل المدينة والشعبي وإبراهيم النخعي وأمثالهما رحمة الله عليهم من أهل الكوفة والحسن وابن سيرين وأمثالهما رحمة الله عليهم من أهل البصرة وكذلك من كان في عصر من ذكرنا من سائر فقهاء الأمصار رحمة الله عليهم ومن كان فوقهم من الطبقة الأولى من التابعين مثل علقمة والأسود وعمرو بن شرحبيل وعبيدة وشريح رحمة الله عليهم لئن كان هذا مطلقا في سعيد بن المسيب فإنه مطلق لغيرك فيمن ذكرنا وإن كان غيرك ممنوعا من ذلك فإنك ممنوع من مثله لأن هذا تحكم وليس لأحد أن يحكم في دين الله بالتحكم وقد قال أهل العلم في تأويل قول رسول الله صلى الله عليه و سلم غير ما ذكرت

عطاء اور سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد میں فرمایا رہن کو بند نہ کیا جائے اور اس کے مالک کو اس فائدہ ہے اور اس کا تاوان اسی پر ہے تو اس سے ثابت ہورہا ہے کہ رہن قرض کے بدلے ضائع نہ ہو گا اور اس کے مالک کے لیے اس کا نفع ہے اور وہ اس مرہونہ چیز کا سلامت رہنا ہے اور اسی کے ذمہ اس کا تاوان ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مرہونہ شئی کے ضائع ہونے کے بعد اس پر قرض کا تاوان ہو گا۔ ان کو جواب میں کہیں گے کہ تمام اہل لغت نے اس تاویل کا انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس معنی کی کوئی صورت نہیں ہے اگرچہ یہ روایت منقطع ہے لیکن اس کے باوجود اس کے لانے پر اس وجہ سے مجبور ہوئے کہ مخالف نے اسی سے ہمارے خلاف استدلال کر کے ہمیں اس حدیث کے مخالف گردانا ہے حالانکہ اگر ہمارے ساتھ انصاف سے پیش آتا تو خود اپنے قاعدے کے مطابق اس سے استدلال ہی نہ کرتا ۔ کیونکہ یہ منقطع ہے اور حدیث منقطع ان کے ہاں حجت نہیں ۔ بالفرض اگر وہ کہیں کہ منقطع ہونے کے باوجود اس کو اس لیے قبول کیا کہ سعید بن مسیب کی منقطع بھی متصل کے قائم مقام ہے ۔ تو اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ یہ بات سعید بن مسیب کے ساتھ خاص کرنے کا ھق آپ جو کہاں سے مل گیا حالانکہ ان کے برابر اہل مدینہ کے علماء مثلا ابو سلمہ ، قاسم ، سالم ، عروہ ، سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہم سے ایسی منقطع روایت کا آپ انکار کرتے ہیں اسی طرح ان جیسے اہل کوفہ کے علماء شعبی ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہم سے بھی تسلیم نہیں کرتے اگر منقطع روایت کا قبول کر لینا آپ کے لیے مطلقا سعد بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق درست ہے تو دوسروں کے لیے ان حضرات کی ایسی روایت مطلقاَ درست ہو گئی اور اگر دوسروں کے لیے یہ بات جائز نہیں مانتے تو آپ کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں ورنہ تو یہ محض ضد اور کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے دین میں ایسی ضد بازی کی قطعا اجازت نہیں ۔

عطاء وسليمان بن موسى ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5759

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5760

5446 - حدثنا علي بن عبد العزيز فيما أعلم فإن لم يكن فقد دخل فيما كان أجازه لي قال ثنا أبو عبيد قال ثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في رجل دفع إلى رجل رهنا وأخذ منه دراهم وقال إن جئتك بحقك إلى كذا وكذا وإلا في الرهن لك بحقك فقال إبراهيم لا يغلق الرهن قال أبو عبيد أفجعله جوابا لمسألته وقد روى عن طاوس نحو من هذا بلغني ذلك عن بن عيينة عن عمرو عن طاوس قال أبو عبيد وأخبرني عبد الرحمن بن مهدي عن مالك بن أنس وسفيان بن سعيد أنهما كان يفسرانه على هذا التفسير

مغیرہ نے ابراہیم سے اس آدمی کے متعلق بیان کیا جس نے ایک آدمی کو رہن حوالے کیا اور اس سے کچھ دراہم لیے اور اسے کہا اگر میں نے تمہارا حق فلاں وقت تک ادا کر دیا تو مناسب ورنہ رہن تمہارے لیے تمہارے حق کے بدلے ہو جائے گا تو ابراہیم کہنےلگے رہن بند نہ ہو گا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے اس سوال کا جواب قرار دیا اور ابن عینہ نے عمرو بن طاوس سے نقل کیا کہ وہ ابھی یہی تاویل کرتے تھے ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ مالک بن انس اور سفیان بن سعید دونوں بھی یہ تفسیر کرتے تھے ۔

مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو عُبَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5760

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5761

5447 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أخبرنا بن وهب عن مالك بن أنس بذلك أيضا

ابن وہب نے مالک بن انس سے بھی یہی نقل کی ہے ۔

مالك بن أنس بذلك أيضا ← بن وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5761

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5762

5448 - حدثنا فهد قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا سفيان عن الزهري قال قال سعيد بن المسيب قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن فبذلك يمنع صاحب الرهن أن يبتاعه من الذي رهنه عنده حتى يباع من غيره فذهب الزهري أيضا في ذلك الغلق إلى أنه في البيع لا في الضياع فهؤلاء المتقدمون يقولون بما ذكرنا وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا أيضا ما قد

زہری نے کہا کہ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہن بند نہ کیا جائے گا ۔ اسی وجہ سے مرتہن کو منع کیا گیا کہ رہن سے وہ چیز خرید ے جو اس نے اس کے ہاں رہن رکھی ہوئی ہے یہاں تک کہ وہ دوسرے آدمی پر فروخت کی جائے پس زہری بھی غلق میں بیع کی طرف گئے ہیں ہلاک ہوجانے کے متعلق نہیں متقدمین نے بھی وہی بات کہی جو ہم نے ذکر کی ہے ۔ اس سلسلہ میں ارشاد نبوت ملا حظہ ہو ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5762

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5763

5449 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن محمد التيمي قال أخبرنا عبد الله بن المبارك قال ثنا مصعب بن ثابت عن عطاء بن أبي رباح أن رجلا ارتهن فرسا فمات الفرس في يد المرتهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ذهب حقك فدل هذا من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم على بطلان الدين بضياع الرهن فإن قال هذا منقطع قيل له والذي تأولته أيضا منقطع فإن كان المنقطع حجة لك علينا فالمنقطع أيضا حجة لنا عليك وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من جهة أخرى ما يوافق ذلك أيضا

مصعب بن ثابت نے عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے گھوڑا بطور رہن لیا وہ مرتہن کے پاس مر گیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا حق ( قرض ) جاتا رہا ۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے دلالت مل گئی کہ رہن کے ضائع ہونے سے قرض باطل ہو جاتا ہے اگر معترض کہے کہ یہ منقطع روایت ہے ۔ استدلال کیسے درست ہے ان کو جواب دیا جائے گا کہ آپ نے جو تاویل کی وہ بھی منقطع ہے اگر تمہاری منقطع ہمارے خلاف حجت ہے تو یہ منقطع ہماری طرف سے تمہارے خلاف حجت ہے ایک دوسری سند سے یہ روایت مروی ہے ۔

مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عبد الله بن محمد التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5763

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5764

5450 - حدثنا أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي قال ثنا خالد بن نزار الإيلي قال حدثني عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه قال كان من أدركت من فقهائنا الذين ينتهي إلى قولهم منهم سعيد بن المسيب وعروة بن الزبير والقاسم بن محمد وأبو بكر بن عبد الرحمن وخارجة بن زيد وعبيد الله بن عبد الله في مشيخة من نظرائهم أهل فقه وصلاح وفضل فذكر جميع ما جمع من أقاويلهم في كتابه على هذه الصفة أنهم قالوا الرهن بما فيه إذا هلك وعميت قيمته ويرفع ذلك منهم الثقة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فهؤلاء أئمة المدينة وفقهاؤها يقولون إن الرهن يهلك بما فيه ويرفعه الثقة منهم إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأيهم ما حكاه فهو حجة لأنه فقيه إمام ثم قولهم جميعا بذلك وإجماعهم عليه فقد ثبت به صحة ذلك أيضا عن سعيد بن المسيب وهو المأخوذ عنه قول رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يغلق الرهن وقد زعم هذا المخالف لنا أن من روى حديثا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فهو أعلم بتأويله حتى قال في حديث بن عباس رضي الله عنهما الذي رواه سيف لنا عن قيس بن سعد عن عمرو بن دينار عن بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضي باليمين مع الشاهد قال عمرو في الأموال فجعل هو قول عمرو في هذا حجة ودليلا له أن ذلك الحكم في الأموال دون سائر الأشياء فلئن كان قول عمرو بن دينار هذا تأويله يجب به حجة فإن قول سعيد بن المسيب الذي ذكرنا وتأويله فيما روى أحرى أن يكون حجة وهذا المخالف لنا قد زعم أنه يقول بالاتباع فعمن أخذ قوله هذا ومن إمامه فيه وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم خلافه وعن تابعي أصحابه خلافه أيضا وقد روى عن أيمة أصحابه خلاف ذلك أيضا

ابو الزناد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ جن فقہاء کو میں نے پایا کہ ان کے قول پر بات ختم ہوتی ہے ان میں سعید بن مسیب عروہ بن زبیر ، قاسم بن محمد ، ابو بکر بن عبدالرحمن ، خارجہ بن زید اور عبید اللہ بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہم یہ اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں بڑے ہیں یہ اہل فقہ ، اہل صلاح و فضل ہیں ۔ پھر انہوں نے ان تمام کے اقوال اپنی کتاب میں اس طرح جمع کیے کہ وہ کہتے ہیں جب مرہونہ شئی ہلاک ہو جائے اور اس کی قیمت نا معلوم ہو تو وہ رہن کے مقابلے میں ہے جس کے بدلے رکھی گئی ان حضرات میں ثقہ لوگ اس روایت کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کرتے ہیں ۔ یہ مدینہ منورہ کے ائمہ و فقہاء کہہ رہے ہیں رہن اس کے بدلے میں سمجھ جائے گا جب وہ ہلاک ہو جائے اور ان میں سے ثقہ علماء اسکو مرفوعاً نقل کرتے ہیں تو ان میں سے جو بھی نقل کرے وہ حجت ہے کیونکہ وہ فقیہ و امام ہے پھر تمام کا قول اور ان کا اجماع تو (بدرجہ اولیٰ حجت ہو گا) اور خود سعید بن مسیب جنہوں نے " لایغلق لاھن" والا ارشاد گرامی نقل کیا اس کی صحت ان سے بھی ثابت ہو گئی۔ ہمارے مخالف نے یہ خیال کر لیا کہ جو شخص کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روایت کرے وہ اس کے مفہوم کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو وہ روایت جو ہم نے سیف سے انہوں نے قیس بن سعید سے انہوں نے عمرو بن دینا سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور گاہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا عمروبن دینارکہتے ہیں کہ اموال کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا ۔ ہمارے اس مخالف نے عمرو بن دینار کے قول کو حجت قرا دیا اور اس بات کی دلیل بنایا کہ یہ حکم صرف اموال میں ہے دیگر اشیا ء میں یہ حکم نہیں ہے اگرعمرو بن دینار کا یہ قول اس حدیث کے معنی میں ضروری حجت ہے تو پھر سعد بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کا بیان کردہ مفہوم جس کا ہم نے تذکرہ کیا وہ حجت بننے کے زیادہ لائق ہے ہمارے مخلاف کا زعم یہ ہے کہ وہ اتباع کر رہا ہے ۔ تو ( ہم پوچھتے ہیں کہ ) اس نے یہ قول کہاں سے اور کس سے لیا اور اس سلسلے میں اس کا امام کون ہے ؟ حالانکہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف روایت ذکر کی ہے اسی طرح تابعین کرام سے اس کے خلاف قول موجود ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کبار اصحاب رضی اللہ عنہم سے بھی اس کے خلاف قول مروی ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ الْأَيْلِيُّ، ← أبو العوام محمد بن عبد الله بن عبد الجبار المرادي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5764

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5765

5451 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن أبي العوام عن مطر عن عطاء عن عبيد بن عمير أن عمر بن الخطاب قال في الرجل يرتهن الرهن فيضيع قال إن كان بأقل ردوا عليه وإن كان بأفضل فهو أمين في الفضل

عطاء نے عبید اللہ بن عمیر سے نقل کیا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے متعلق جو رہن رکھے اور وہ ضائع ہو جائے فرمایا اگر وہ کم مالیت کے مقابلے میں ہے تو وہ راہن کو باقی مال واپس کر دیں اور اگر زائد مالیت والا ہے تو وہ زائد میں امین ہے ۔

إن كان بأقل ردوا عليه وإن كان بأفضل فهو أمين في الفضل ← في الرجل يرتهن الرهن فيضيع ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← عَطَاءٍ، ← مَطَرٍ، ← أبي العوام ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5765

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5766

5452 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا يزيد بن هارون عن إسرائيل عن عبد الأعلى التغلبي عن محمد بن الحنفية أن عليا قال إذا رهن الرجل الرجل رهنا فقال له المعطى لا أقبله إلا بأكثر مما أعطيك فضاع رد عليه الفضل وإن رهنه وهو أكثر مما أعطى يطيب نفس من الراهن فضاع فهو بما فيه

محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی کے پاس رہن رکھے اور قرض دینے والا اس کو کہے کہ میں اس کو قبول نہیں کرتا مگر اس سے زیادہ کے ساتھ جو میں نے تم کو دیا ۔ پھر وہ ضائع ہو جائے تو زائد رقم لوٹائے اور اگر وہ رہن رکھے اور مرہونہ شئی اس قرض سے زائد مالیت کی ہو اور راہن اپنی مرضی سے دے پھر وہ ضائع ہو جائے تو وہ قرض کے بدلے میں ہی ہو گی ۔

إذا رهن الرجل الرجل رهنا ← محمد بن الحنفية أن عليا ← عَبْدِ الْأَعْلَى التَّغْلِبِيِّ، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5766

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5767

5453 - حدثنا نصر قال ثنا الخطيب قال ثنا حماد بن سلمة عن قتادة عن خلاس هو بن عمرو أن عليا قال إذا كان في الرهن فضل فأصابته جائحة فهو بما فيه وإن لم تصبه جائحة وأتهم فإنه يرد الفضل

خلاس بن عمرو نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب رہن میں (قرض کے مقابلہ میں ) زیادہ مالیت ہو پھر اس کو ہلاکت پہنچ جائے تو وہ اپنے عوض کے مقابلے میں ہو گا اور اگر ہلاکت نہ پہنچے بلکہ تہمت لگائی گئی ہو تو وہ زائد کو واپس کر دے ۔

خلاس هو بن عمرو أن عليا ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الخطيب ← نَصْرٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5767

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5768

5454 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا حمام عن قتادة عن الحسن وخلاس بن عمرو أن عليا قال في الرهن يترادان الزيادة والنقصان جميعا فإن أصابته جائحة برئ فهذا عمر وعلي رضي الله عنهما قد أجمعا أن الرهن الذي قيمته مقدار الدين يضيع بالدين وإنما اختلافهما فيما زاد من قيمة الرهن على مقدار الدين فقال عمر رضي الله عنه هو أمانة وقال علي رضي الله عنه ما قد رويناه عنه في حديث نصر بن مرزوق وأحمد بن داود وقد روى أيضا عن الحسن وشريح في ذلك ما قد

حسن اور فلاس بن عمر و دونوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رہن کے متعلق فرمایا کہ راہن و مرتہن اضافہ اور نقصان کو ایک دوسرے کی طرف واپس کریں اور اگر ہلاک ہو جائے تو مقروض بری الذمہ ہو جائے گایہ حضرت عمر ،حضرت علی رضی اللہ عنہا ہیں جن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس مرہونہ شئی کی قیمت قرض کے برابر ہو وہ تو قرض کے بدلے ہلاک ہو گی جب رہن کی مقدار قرض کی مقدار سے زیادہ ہو تو اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ وہ امانت ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ ہلاکت کی صورت میں اپنے عوض کے مقابلہ میں ہے جیسا کہ نصربن مزوق اور احمد بن دادو کی روایت میں ہے ۔

الحسن وخلاس بن عمرو ← قَتَادَةَ ← حُمَامٌ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5768

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5769

5455 - حدثنا نصر قال ثنا الخصيب قال ثنا حماد بن سلمة عن قتادة أن الحسن وشريحا قالا الرهن بما فيه

قتادہ کہتے ہیں کہ حسن و شریح رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ راہن اس چیز کے بدلے ہے جس کے مقابلے میں ہے ۔

الرهن بما فيه. ← قتادة أن الحسن وشريحا ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الخصيب ← نَصْرٌ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5769

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5770

5456 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن أبي حصين قال سمعت شريحا يقول ذهبت الرهان بما فيها

ابو حصین کہتے ہیں کہ میں نے شریح کو فرماتے ہوئے سنا رہن اس چیز کے مقابلے میں چلی گئی جس میں اس کو رہن رکھا گیا تھا ۔

ذَهَبَتِ الرِّهَانُ بِمَا فِيهَا. ← شُرَيْحًا ← أَبِي حَصِينٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5770

chevron_left Previous
1…607608609610611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter